پاک فوج کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں: بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاک فوج کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔
آزاد کشمیر میں پارٹی عہدیداروں اور ٹکٹ ہولڈرز سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاستی قانون کے مطابق تحقیقات کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اپنی تجویز کے حوالے سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بندوق، طاقت یا دھرنوں کے ذریعے آئینی ترامیم نہیں ہو سکتیں، پیپلز پارٹی ہر معاملے پر مکالمے اور بحث کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام خود کریں گے اور وہ مہاجرینِ کشمیر کے نمائندوں کو پارلیمنٹ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ کشمیریوں کے مسائل کا حل آزاد کشمیر کے اندر ہی چاہتے ہیں اور کشمیری عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں روزگار چھین کر ترقی حاصل کی جا سکتی ہے، حالانکہ یہ سوچ غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا مستقبل صرف کشمیریوں کے ہاتھ میں ہے اور موجودہ صورتحال کا پرامن حل ضروری ہے۔ اگر کشمیریوں کو مزید حقوق درکار ہیں تو سب کو مل کر جدوجہد کرنی ہوگی۔
انہوں نے پارٹی امیدواروں کو ہدایت کی کہ انتخابات میں وقت کم ہے، اس لیے دن رات محنت کریں اور گھر گھر جا کر پیپلز پارٹی کا پیغام پہنچائیں، کیونکہ ان کے بقول پیپلز پارٹی ہی روزگار اور عوامی حقوق کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے۔
آخر میں بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاست ضرور کریں لیکن الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں، کیونکہ پاک فوج کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔