اجازت کے بغیر سمیں ایکٹیو کرنے پر موبائل کمپنیوں پر 74 کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے شہریوں کی مرضی اور اجازت کے بغیر ان کے شناختی کارڈز پر سمیں جاری کرنے کی سنگین خلاف ورزی پر ملک کی چاروں بڑی موبائل کمپنیوں پر مجموعی طور پر 74 کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
پی ٹی اے نے کمپنیوں کو مقررہ مدت میں جرمانے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عدم ادائیگی کی صورت میں مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کس کمپنی کو کتنا جرمانہ ہوا؟
پی ٹی اے نے مختلف بے ضابطگیوں کی بنیاد پر جرمانوں کا تعین کیا ہے۔
یوفون پر ضوابط کی متعدد خلاف ورزیوں کے باعث 23 کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد کا سب سے زیادہ جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
زونگ پر سموں کے اجرا کے طے شدہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر 15 کروڑ 56 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔
جاز پر غیر قانونی طور پر سمیں جاری کرنے اور مانیٹرنگ کے نظام میں غفلت برتنے پر 11 کروڑ 67 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
ٹیلی نار کو بھی سموں کے اجرا کے ضوابط نظر انداز کرنے پر 11 کروڑ 67 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ فرنچائزز کی سطح پر ہونے والی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی براہِ راست ذمہ دار متعلقہ موبائل کمپنی ہوگی۔
اتھارٹی کے مطابق موبائل کمپنیوں نے اپنی فرنچائزز اور بائیومیٹرک تصدیقی نظام کی مؤثر نگرانی نہیں کی، جس کے باعث یہ سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں اور صارفین کے ڈیٹا کا غلط استعمال ہوا۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی اجازت کے بغیر سموں کا اجرا کوئی معمولی کوتاہی نہیں بلکہ ایک سنگین سیکیورٹی رسک ہے۔
اس قسم کی غیر قانونی سمیں مستقبل میں سائبر فراڈ، شناختی چوری (آئیڈینٹٹی تھیفٹ) اور بڑے مالیاتی جرائم کا سبب بن سکتی ہیں، اسی لیے اتھارٹی ملک میں ٹیلی کام سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ بھی ایسے سخت اقدامات جاری رکھے گی۔