Pakistan

سوات: جھیل سیف اللّٰہ کشتی حادثہ، انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات

سوات: جھیل سیف اللّٰہ کشتی حادثہ، انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات
۲ گھنٹے پہلے

سوات کی جھیل سیف اللّٰہ میں پیش آنے والے کشتی حادثے کی انکوائری رپورٹ خیبر پختونخوا حکومت کو بھجوا دی گئی ہے، جس میں متعدد اہم حفاظتی خامیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کشتی چلانے والے کے پاس این او سی موجود نہیں تھا، جبکہ حادثے کا شکار کشتی میں ایک بھی چپو موجود نہیں تھا۔

 

سوات میں یکم جولائی کو جھیل سیف اللّٰہ میں کشتی الٹنے سے 7 افراد ڈوب گئے تھے۔ دورانِ سفر کشتی کا جنریٹر بند ہو گیا تھا۔ سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محمد ایاز کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔

 

انکوائری کمیٹی کے ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت جھیل میں اچانک پانی کا تیز ریلہ آیا، جس نے سیاحوں سمیت کشتی کو بہا دیا۔ کشتی کے ملاح کے مطابق اسے تیرنا آتا تھا، اس لیے اس نے پانی میں چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی پانچ سال قبل قائم کی گئی تھی، اس کا ایکٹ تو موجود ہے لیکن اس کے قواعد و ضوابط اب تک نہیں بنائے گئے۔ موجودہ ایکٹ کے مطابق کشتی رانی کی نگرانی اتھارٹی کی ذمہ داری نہیں بنتی۔ ڈی جی اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق بورڈ کی تشکیل کے بعد اس معاملے کو دیکھا جائے گا۔

 

انکوائری ذرائع کے مطابق کلچر اینڈ ٹورازم ایکٹ کے تحت کشتی چلانے کے امور کلچر اینڈ ٹورازم کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، تاہم متعلقہ محکمہ کا مؤقف ہے کہ اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے بعد یہ ذمہ داری ان پر نہیں رہی۔

 

رپورٹ کے مطابق مقامی افراد لکڑی کی کشتیوں میں جنریٹر انجن لگا کر انہیں چلاتے ہیں۔ جھیل سیف اللّٰہ میں 250 سے زائد کشتیاں چلتی ہیں۔ کشتی چلانے والوں نے انکوائری کمیٹی کو بتایا کہ ایک لائف جیکٹ کی قیمت تقریباً 5 ہزار روپے ہے، جو وہ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں