World

وائٹ ہاؤس ملازم نےٹرمپ کی تقاریر پر شرطیں لگا کر ایک لاکھ ڈالر کمالئے

وائٹ ہاؤس ملازم نےٹرمپ کی تقاریر پر شرطیں لگا کر ایک لاکھ ڈالر کمالئے
۸ دن پہلے

وائٹ ہاؤس نے اپنے ایک ٹیلی پرومپٹر آپریٹر کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے اندرونی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقاریر پر شرطیں لگائیں اور تقریباً ایک لاکھ ڈالر کمانے کی کوشش کی۔

 

رپورٹس کے مطابق گیبریل پیریز، جو 2016 سے وائٹ ہاؤس میں خدمات انجام دے رہے تھے، پر الزام ہے کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کی اہم عوامی تقاریر، جن میں سٹیٹ آف دی یونین خطاب بھی شامل ہے، میں استعمال ہونے والے الفاظ سے متعلق شرطیں لگائیں۔

 

یہ شرطیں Kalshi نامی ایک پریڈکشن مارکیٹ پلیٹ فارم پر لگائی گئیں، جہاں صارفین حقیقی دنیا کے واقعات کے نتائج پر مالی شرط لگا سکتے ہیں۔

 

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اس معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ ملازم کو بغیر تنخواہ رخصت پر بھیج دیا گیا ہے اور وہ آئندہ وائٹ ہاؤس میں خدمات انجام نہیں دیں گے۔

 

دوسری جانب Kalshi نے تصدیق کی کہ اس نے اس مشتبہ سرگرمی کی اطلاع کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کو دے دی تھی، جو اس پلیٹ فارم کی نگرانی کرتا ہے۔

 

کمپنی کے مطابق مارچ میں تجزیہ کاروں نے صدر کی تقاریر سے متعلق "مینشن مارکیٹس" میں غیر معمولی شرطیں نوٹ کیں، جس کے بعد تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اکاؤنٹ ایک وفاقی ملازم استعمال کر رہا تھا جو وائٹ ہاؤس میں ٹیلی پرومپٹر چلاتا تھا۔

 

کمپنی نے 90 ہزار ڈالر سے زائد کی ممکنہ منافع کی رقم نکالے جانے سے پہلے ہی اکاؤنٹ منجمد کر دیا اور تمام شواہد متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے حوالے کر دیے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں