سپین ٹیم کا وطن واپسی پر تاریخی استقبال،18 لاکھ شائقین سڑکوں پر نکل آئے
فیفا ورلڈ کپ 2026 کی فاتح سپین کی قومی فٹبال ٹیم کا وطن واپسی پر تاریخی استقبال کیا گیا، جہاں دارالحکومت میڈرڈ کی سڑکوں پر قریباً 18 لاکھ شائقین نے عالمی چیمپئنز کا والہانہ خیرمقدم کیا۔
امریکا کے شہر نیو جرسی میں کھیلے گئے فائنل میں ارجنٹائن کو اضافی وقت میں ایک، صفر سے شکست دینے کے ایک روز بعد سپین کی 26 رکنی ٹیم اور کوچنگ اسٹاف وطن پہنچا، جہاں سب سے پہلے انہوں نے شاہی خاندان اور وزیراعظم پیڈرو سانچیز سے ملاقات کی۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے ٹیم کو مبارک دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے کھیل کے انداز، محنت اور شاندار فتح پر پوری قوم کو فخر ہے۔ ہم نے آپ کے ہر میچ سے بھرپور لطف اٹھایا۔
بعد ازاں کھلاڑی ورلڈ کپ ٹرافی کے ساتھ کھلی چھت والی بس میں سوار ہو کر میڈرڈ کی تاریخی شاہراہوں سے گزرے۔ بس پر "ہم سب ستارے ہیں" کا نعرہ اور کھلاڑیوں کی تصاویر آویزاں تھیں، جبکہ ٹیم کے ارکان "ہم چیمپیئن ہیں" درج خصوصی شرٹس پہن کر شائقین کے نعروں کا جواب دیتے رہے۔
سپین کے ہیڈ کوچ لوئس دے لا فوئنٹے نے کہا کہ اپنے ملک اور اس کے پرجوش عوام کی نمائندگی کرنا ان کے لیے انتہائی فخر اور جذباتی لمحہ ہے۔
حکام کے مطابق قریباً 18 لاکھ افراد نے مختلف شاہراہوں اور سیبیلیس اسکوائر میں جمع ہو کر ٹیم کا استقبال کیا، جہاں موسیقی کی محفل بھی سجائی گئی اور جشن رات گئے تک جاری رہا۔
یہ اسپین کا دوسرا فیفا ورلڈ کپ ہے، اس سے قبل اس نے 2010 میں جنوبی افریقہ میں عالمی ٹائٹل جیتا تھا۔ مردوں کے 2026 اور خواتین کے 2023 ورلڈ کپ جیتنے کے بعد سپین دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس کے پاس بیک وقت مردوں اور خواتین دونوں کے عالمی فٹبال ٹائٹلز موجود ہیں۔
تاہم جشن کے دوران ایک افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا۔ حکام کے مطابق میڈرڈ کے شمال مغرب میں واقع شہر سالامانکا میں جشن مناتے ہوئے ایک فوارہ گرنے سے 13 سالہ لڑکا جان کی بازی ہار گیا، جس پر ملک بھر میں افسوس کا اظہار کیا گیا۔