طلبہ احتجاج، نئی دہلی میں انٹرنیٹ سروس کی بندش میں مزید توسیع
بھارتی حکومت نے نئی دہلی کے وسطی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی بندش میں مزید توسیع کر دی ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق سینٹرل دہلی میں انٹرنیٹ سروس آ رات 12 بجے تک معطل رہے گی۔
دارالحکومت میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے زیرِ اہتمام نوجوانوں اور طلبہ کا احتجاج مسلسل جاری ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر مودی کو کچھ کہنا ہے تو وہ پارلیمنٹ میں آ کر بیان دیں، تب ہی ان کی بات معتبر سمجھی جائے گی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعظم رات کے بجائے دن کے وقت پارلیمنٹ میں اپنا مؤقف پیش کریں، جبکہ کانگریس ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔
ادھر بالی ووڈ کے سینئر اداکار نصیرالدین شاہ نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
سینئر صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی میں جو کچھ ہوا، اس پر انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ نریندر مودی نے کبھی اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مودی کو ایک بے عیب رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ کبھی آزاد میڈیا کے سامنے نہیں آتے کیونکہ وہ سوالات سے خوفزدہ ہیں۔