Breaking News

ایپل نے انویڈیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے مہنگی کمپنی کا اعزاز دوبارہ حاصل کر لیا

ایپل نے انویڈیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے مہنگی کمپنی کا اعزاز دوبارہ حاصل کر لیا
۳ گھنٹے پہلے

ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے امریکی چِپ ساز کمپنی انویڈیا (Nvidia) کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک بار پھر دنیا کی سب سے مہنگی کمپنی کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ ایپل کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 4.94 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ انویڈیا کی مارکیٹ مالیت تقریباً 4.83 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

 

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرمایہ کار ایپل کی مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں محتاط سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی انفراسٹرکچر پر دسیوں ارب ڈالر خرچ کر رہی ہیں، وہیں ایپل نے اپنے سرمایہ جاتی اخراجات کو محدود رکھتے ہوئے مالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔

 

رپورٹس کے مطابق الفابیٹ اور ٹیسلا جیسی کمپنیاں اے آئی ڈیٹا سینٹرز، روبوٹیکسی منصوبوں اور روبوٹکس کی ترقی پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جبکہ ایپل نے گزشتہ تین سہ ماہیوں کے دوران اپنے سرمایہ جاتی اخراجات میں کمی کی ہے۔ اس کے باوجود کمپنی اپنے Apple Intelligence پلیٹ فارم کی توسیع کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق ایپل کی محتاط مالی حکمتِ عملی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں متوازن پیش رفت نے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط کیا ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی ایک بار پھر عالمی مارکیٹ میں سب سے قیمتی کمپنی بننے میں کامیاب ہو گئی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں