مودی سے متعلق ویڈیوز،میٹا انڈیا کے سربراہ سمیت متعدد کیخلاف مقدمات
بھارتی شہر حیدر آباد کی سائبر کرائم پولیس نے طلبہ کے حالیہ احتجاج کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی سے متعلق مبینہ توہین آمیز ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلانے کے الزام میں میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سرینواس سمیت متعدد فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ مقدمات 2 شکایت گزاروں، ایس اراوند ریڈی اور ٹی سائی کرن گوڑ، کی درخواست پر درج کیے گئے، جن کا مؤقف ہے کہ انسٹاگرام پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مودی کی ویڈیوز اور تصاویر کے ساتھ نازیبا اور توہین آمیز تبصرے بھی شیئر کیے جا رہے تھے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ مواد عوام کو گمراہ کرنے، غلط معلومات پھیلانے، نفرت اور بدامنی کو فروغ دینے، عوامی شخصیات کی ساکھ متاثر کرنے اور امن و امان خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے سی جے پی کے زیرِ انتظام طلبہ احتجاج کے دوران شیئر کی گئی متعدد پوسٹس اور تبصروں کی بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سرینواس کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا ہے۔
دوسری جانب چند روز قبل وزیرِ اعظم نریندر مودی کے سرکاری اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو کو فیس بک پر عارضی طور پر بلاک کیے جانے پر بھارتی حکومت نے میٹا سے وضاحت طلب کی تھی۔ میٹا نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وزیرِ اعظم مودی کے اکاؤنٹ سے متعلق مواد کی نگرانی مزید سخت کی جائے گی اور آئندہ ایسے معاملات میں صرف کمپنی کے سینئر عہدیدار فیصلہ کریں گے جبکہ ہر فیصلے کا کم از کم 2 اعلیٰ حکام جائزہ لیں گے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق میٹا کی ٹیم رواں ہفتے حکومت سے ملاقات بھی کرے گی، جہاں مواد کی نگرانی سمیت دیگر اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ ادھر دہلی پولیس بھی 20 جولائی کے ’سنسد چلو‘ مارچ اور جنتر منتر پر طلبہ احتجاج کے دوران وزیرِ اعظم مودی کے خلاف مبینہ توہین آمیز پوسٹس اور ویڈیوز ہٹانے کے لیے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، نیوز پورٹلز اور مختلف اکاؤنٹس کو نوٹسز جاری کر چکی ہے۔