ترکیہ میں اپوزیشن کو بڑا دھچکا،میئر اردال بشکچی اوغلو گرفتار
ترکیہ میں اپوزیشن جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں معروف اداکار سے سیاستدان بننے والے اتیمسگت شہر کے میئر اردال بشکچی اوغلو کو بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انقرہ کے پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ 56 سالہ اردال بشکچی اوغلو ان درجنوں رہنماؤں میں شامل ہیں جنہیں بدعنوانی کے خلاف جاری تحقیقات کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق انقرہ کے 9 اضلاع میں بیک وقت کارروائیاں کی گئیں جن میں مجموعی طور پر 55 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں اتیمسگت کے میئر اردال بشکچی اوغلو، 42 بلدیاتی ملازمین اور 13 کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ان افراد پر ایک مبینہ مجرمانہ تنظیم قائم کرنے، اسے چلانے اور بدعنوانی سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ترک حکام کے مطابق یہ تحقیقات اتیمسگت بلدیہ کی جانب سے جاری کیے گئے بعض سرکاری ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مالی بے قاعدگیوں سے متعلق ہیں، جن کے شواہد کی بنیاد پر یہ کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
دوسری جانب ری پبلکن پیپلز پارٹی نے ان کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے قانونی کارروائیوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
سی ایچ پی کے مطابق اس وقت پارٹی سے تعلق رکھنے والے کم از کم 28 میئرز اور سینکڑوں عہدیدار مختلف مقدمات کے باعث زیرِ حراست ہیں، جس سے اپوزیشن پر حکومتی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ اردال بشکچی اوغلو نے 2024 میں ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے قریب واقع شہر اتیمسگت کے میئر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ تقریباً 6 لاکھ آبادی والے اس شہر میں ان کی گرفتاری کو ترکیہ کی حالیہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔