نئے اقوامِ متحدہ سیکرٹری جنرل کے انتخاب کیلئے پہلی خفیہ ووٹنگ
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے عمل کے تحت امیدواروں کا جائزہ لینے کے لیے پہلا غیر رسمی اسٹرا پول منعقد کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز بند کمرے میں ابتدائی خفیہ ووٹنگ ہوئی جس میں سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے 7 امیدواروں نے حصہ لیا۔ غیر رسمی ووٹنگ کے نتائج کو خفیہ رکھا گیا ہے اور انہیں عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا۔
غیر رسمی ووٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جمہوریہ کانگو کے اقوامِ متحدہ میں سفیر اور سلامتی کونسل کے موجودہ صدر زینون موکونگو نگے نے بتایا کہ ووٹنگ کے نتائج ان ممالک کے سفیروں اور جنرل اسمبلی کے صدر کو فراہم کیے جائیں گے جنہوں نے امیدوار نامزد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نتائج کو خفیہ رکھنے کا مقصد قیاس آرائیوں اور غیر ضروری سیاسی دباؤ سے بچنا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے لیے میدان میں موجود تمام 7 امیدواروں کو ان کے ممالک کے مستقل نمائندوں کے ذریعے نتائج سے آگاہ کیا جائے گا، جبکہ سلامتی کونسل کی اگلی غیر رسمی ووٹنگ کا شیڈول آئندہ چند روز میں طے کیا جائے گا۔ انتخابی طریقہ کار کے مطابق کسی امیدوار کو 15 رکنی سلامتی کونسل میں کم از کم 9 ووٹ درکار ہوں گے اور ساتھ ہی امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس سمیت سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان میں سے کسی کی جانب سے ویٹو کا سامنا بھی نہیں ہونا چاہیے۔
اس مرحلے کے بعد سلامتی کونسل کامیاب امیدوار کا نام جنرل اسمبلی کو سفارش کے لیے بھیجے گی، جہاں حتمی منظوری دی جائے گی۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کا عمل ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے آغاز تک مکمل ہو جائے گا، تاہم اگر کسی امیدوار پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا تو یہ مرحلہ مزید طویل بھی ہو سکتا ہے۔ منتخب ہونے والا نیا سیکریٹری جنرل آئندہ سال یکم جنوری سے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت کا آغاز کرے گا۔ موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنوری 2017 میں عہدہ سنبھالا تھا اور 2021 میں دوسری مدت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔