برطانیہ ، بیضہ دانی کے کینسر کی مریضہ کو دنیا کی پہلی تجرباتی سیل تھراپی دی گئی
برطانیہ میں جدید مرحلے کے بیضہ دانی کے کینسر میں مبتلا 58 سالہ ٹریسی ٹاملنسن دنیا کی پہلی مریضہ بن گئی ہیں جنہیں نئی تجرباتی دوا ZI-MA4-1 دی گئی ہے۔ یہ علاج مانچسٹر کے کرسٹی این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں جاری کلینیکل ٹرائل کے تحت کیا گیا، جسے ماہرین نے کینسر کے علاج میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
ٹریسی ٹاملنسن کو 2020 میں بیضہ دانی کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ سرجری اور کیموتھراپی کے متعدد مراحل سے گزر چکی ہیں، تاہم بیماری بار بار واپس آتی رہی۔ گزشتہ سال انہیں اس تحقیق کے لیے موزوں قرار دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے اس آزمائشی علاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔
یہ نئی تھراپی صرف بیضہ دانی کے کینسر تک محدود نہیں بلکہ اسے پھیپھڑوں کے کینسر، سارکوما اور سر و گردن کے کینسر کے مریضوں پر بھی آزمایا جائے گا۔ تحقیق کا مقصد ایسے مریضوں کو علاج کا نیا موقع فراہم کرنا ہے جن کے پاس روایتی علاج کے محدود آپشنز باقی رہ گئے ہیں۔
ZI-MA4-1 تھراپی میں جسم کے قدرتی قاتل خلیات (Natural Killer Cells) کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ وہ Mage-A4 نامی پروٹین پیدا کرنے والے کینسر کے خلیات کو پہچان کر انہیں نشانہ بنا سکیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ مدافعتی نظام کو زیادہ مؤثر انداز میں کینسر کے خلاف استعمال کرنے کی نئی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
اس علاج کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اسے 'آف دی شیلف' تھراپی کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، یعنی ہر مریض کے لیے الگ دوا تیار کرنے کے بجائے عطیہ دہندگان کے مدافعتی خلیات سے پہلے ہی بڑی تعداد میں خوراکیں تیار کی جا سکتی ہیں، جس سے علاج تیز اور نسبتاً کم لاگت میں ممکن ہو سکے گا۔
کرسٹی اسپتال کے ماہرین اور زیلونا کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ ابتدائی آزمائش کامیاب ثابت ہوئی تو مستقبل میں جدید مرحلے کے کینسر کے مریضوں کے لیے یہ تھراپی ایک نئی امید بن سکتی ہے، جبکہ ٹریسی ٹاملنسن نے کہا کہ اگر اس علاج سے دوسرے مریضوں کی زندگیاں بہتر ہو سکیں تو یہی ان کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔