گڈ گورننس انتہائی اہم ہے،بلوچستان کا مسئلہ فرسودہ سماجی، قبائلی نظام ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹنٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں افغان دہشتگردوں کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ رواں سال ہونے والے 28 خودکش حملوں میں سے زیادہ تر خودکش بمبار افغان شہری تھے، جبکہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے حالیہ حملوں میں بھی افغان دہشتگرد ملوث تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے رواں سال اب تک مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تصدیق شدہ دہشتگرد ہلاک کیے گئے اور ان کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال اب تک دہشتگردی کے باعث مجموعی طور پر 819 پاکستانی شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 303 جوان، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 194 اہلکار جبکہ 322 عام شہری شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں دہشتگردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک ہزار 971 خیبرپختونخوا، ایک ہزار 148 بلوچستان جبکہ 26 واقعات ملک کے دیگر حصوں میں پیش آئے۔
انہوں نے دہشتگردی کے اعداد و شمار کا گزشتہ سال سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں مجموعی طور پر 2 ہزار 597 دہشتگرد مارے گئے تھے، جبکہ رواں سال ابھی تقریباً نصف عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک 2 ہزار 84 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جو دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ملک کے امن و استحکام کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پوری قوت سے جاری رہیں گے، جبکہ دہشتگردی کی سرپرستی اور سہولت کاری کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق 2023 میں شہداء کی تعداد اور تناسب زیادہ تھا، تاہم اب دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سوال بجا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ کیوں دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف دباؤ اور آپریشنز میں شدت پیدا کی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جب دہشتگردوں کی براہِ راست حکمت عملی ناکام ہوئی تو انہوں نے افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں سے اپنی سرگرمیوں اور معاونت کا دائرہ بڑھا لیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست پاکستان کا مؤقف اب بالکل واضح ہے اور دہشت گردوں کے لیے کسی قسم کی مفاہمت یا رعایت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ان کے بقول، دہشتگردوں کے پاس صرف دو راستے ہیں، یا وہ آئین اور قانون کے مطابق ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال دیں، یا پھر ریاستی آپریشن کا سامنا کریں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کی وجوہات اور ریاستی حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا جائے گا، کیونکہ یہ اعداد و شمار یقیناً پوری قوم کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر ایک منفی تاثر پیدا کرنے اور مخصوص بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف زیادہ تعداد میں آپریشنز کرتی ہیں، وہاں فطری طور پر مقابلوں اور دہشتگردی کے واقعات کی تعداد میں بھی اضافہ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ دہشتگرد ریاستی دباؤ کے جواب میں کارروائیوں کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہے اور تمام ریاستی معاملات آئین و قانون کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقے پاکستان کو ایک سخت گیر ریاست (ہارڈ اسٹیٹ) قرار دے کر اس کا منفی مفہوم پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی ریاست میں قانون کی بالادستی، مساوات اور ریاستی رٹ قائم ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب آئین اور قانون کا یکساں اطلاق ہو، کسی کے لیے خصوصی رعایت نہ ہو اور عام و خاص سب قانون کے سامنے برابر ہوں، تو یہی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد بنتی ہے۔ ایسی ریاست میں سکیورٹی، استحکام اور نظم و ضبط قائم ہوتا ہے اور بحران جنم نہیں لیتے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کا مقصد ریاستی اقدامات پر سوال اٹھانا ہے، تاہم پاکستان آئین، قانون اور ریاستی رٹ کے مطابق اپنے معاملات چلانے کے لیے پرعزم ہے۔
حقوق سے پہلے فرائض ادا کرنا ہوں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ہر شہری کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے سے پہلے اپنی آئینی ذمہ داریوں اور فرائض کا احساس کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف مقامات پر صرف حقوق کی بات کی جاتی ہے، لیکن یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ان حقوق سے پہلے شہریوں پر آئین کے تحت کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 5 میں شہریوں کی ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی پابندی کو بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر بنیادی حقوق کے ساتھ بنیادی فرائض بھی وابستہ ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معاشرے میں اس تضاد کو ختم کرنا ہوگا کہ صرف حقوق کا مطالبہ کیا جائے، جبکہ ذمہ داریوں کو فراموش کر دیا جائے۔ ان کے مطابق ہر پاکستانی کو سب سے پہلے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو مقدم رکھنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حال ہی میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان سے خطاب کرتے ہوئے بھی اس نکتے پر زور دیا تھا کہ ہر شہری کی پہلی، بنیادی اور آخری شناخت پاکستانی ہونا چاہیے، کیونکہ قومی شناخت اور ریاست سے وفاداری ہی مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی کی پہلی اور بنیادی شناخت پاکستان ہونی چاہیے، نہ کہ صوبائی، لسانی یا نسلی وابستگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا وجود ہی سیاست، سلامتی، شناخت اور قومی بقا کی ضمانت ہے، اس لیے قومی مفاد کو ہر دوسری شناخت پر فوقیت دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچ اپنانا ہوگی کہ پنجابیت، پختونیت، بلوچیت، سندھی، کشمیری یا دیگر علاقائی شناختوں سے پہلے ہماری بنیادی شناخت پاکستانی ہونا ہے۔ ان کے مطابق اگر ریاست مضبوط ہوگی تو ہی سیاست، معیشت، جان، عزت اور قومی شناخت محفوظ رہ سکے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ وہ فرسودہ سماجی اور قبائلی نظام ہے، جو کئی دہائیوں سے عام شہری کو ترقی کے مواقع سے محروم رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض بااثر عناصر چاہتے ہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کرے، ڈاکٹر، انجینیئر، معیشت دان یا فوج کا افسر نہ بنے، کاروبار نہ کرے اور نہ ہی ترقی کرے، بلکہ وہ ہمیشہ ان کے زیرِ اثر رہے، ان کی جاگیروں میں کام کرے، ان کی نجی ملیشیاؤں کا حصہ بنے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرتا رہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یہی فرسودہ طرزِ فکر بلوچستان میں موجود جمود اور مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی عناصر دہشت گردی اور بدامنی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بلوچستان ریاست کے ہاتھ سے نکل رہا ہے تاکہ ماضی کی طرح ان سے رعایت یا مفاہمت کی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست اب ایسے بیانیے یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گی اور بلوچستان کے مسائل کا حل آئین، قانون، ریاستی رٹ اور عوام کی ترقی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ فرسودہ قبائلی نظام کو برقرار رکھنے میں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بعض بااثر عناصر کی اصل پریشانی یہ ہے کہ ریاست اب ماضی کی طرح انہیں خصوصی رعایت یا خوشامد نہیں دے رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عناصر چاہتے ہیں کہ ریاست دوبارہ پرانے طریقہ کار پر واپس آئے، ان سے مذاکرات کرے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض سردار لیویز فورس کو اپنی ذاتی فورس کے طور پر استعمال کرتے رہے، جہاں بھرتیوں اور وسائل پر ان کا اثر و رسوخ تھا، جبکہ متعدد اہلکار ان کی ذاتی حفاظت اور مفادات کے لیے تعینات رہتے تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بعض عناصر نے تجارت کی آڑ میں اسمگلنگ، منشیات اور غیر قانونی ڈیزل کے کاروبار سے بھی فائدہ اٹھایا۔ جب ریاست نے ان سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو انہی عناصر نے دہشت گردی اور بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش کی اور یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ بلوچستان ریاست کے کنٹرول سے نکل رہا ہے تاکہ دوبارہ انہیں مراعات اور وسائل میں حصہ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، جہاں زراعت، معدنیات اور جغرافیائی محل وقوع سمیت بے شمار قدرتی صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن بعض بااثر طبقے ترقی کے بجائے پرانے سردارانہ نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ عام شہری ان کے زیرِ اثر رہے اور استحصالی نظام جاری رہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں سے سرگرم دہشت گرد گروہ باہمی رابطے اور مشترکہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق خود کو سیکولر اور قوم پرست قرار دینے والے عناصر اور مذہبی انتہا پسند تنظیمیں، نظریاتی اختلافات کے باوجود، پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے احساسِ محرومی، نمائندگی کے فقدان اور لاپتا افراد جیسے معاملات کو بھی مخصوص بیانیے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے اور ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
بلوچستان میں احساسِ محرومی کا بیانیہ حقائق کے برعکس ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں احساسِ محرومی کا تاثر ایک منظم پروپیگنڈے کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے، جس کے لیے پہلے مخصوص مواد (کنٹینٹ) تیار کیا جاتا ہے، پھر اسی کی بنیاد پر ایک بیانیہ تشکیل دے کر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صرف گوادر کی مثال لی جائے، جس کی آبادی تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہے، تو وہاں تین جامعات، چار ایجوکیشن کالجز، 318 اسکول، بلوچستان کے بڑے اسپتالوں میں شمار ہونے والا پاک چین فرینڈشپ اسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال، رورل ہیلتھ سینٹر، پانچ چلڈرن ڈسپنسریاں، 19 بنیادی مراکز صحت، بین الاقوامی ہوائی اڈہ، گوادر بندرگاہ، ایکسپریس وے، انڈسٹریل اور ٹیکس فری زونز سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے موجود ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اسی طرح تربت، جس کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ ہے، میں دو جامعات، چھ ایجوکیشن کالجز، کیڈٹ کالجز، گرلز کیڈٹ کالج، سیکڑوں تعلیمی ادارے، ایک ٹیچنگ اسپتال، 27 نجی اسپتال، بین الاقوامی ہوائی اڈہ، جدید سڑکوں کا جال اور کاروباری سرگرمیوں کے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کے دیگر صوبوں، خصوصاً جنوبی پنجاب، اندرونِ سندھ یا دیہی خیبرپختونخوا کے کتنے شہروں میں اسی درجے کی سہولتیں دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان میں صرف 363 اسکول موجود تھے، جبکہ آج صوبے میں 12 جامعات، 5 میڈیکل کالجز، 145 کالجز، 13 کیڈٹ کالجز، 321 ٹیکنیکل ادارے اور ہزاروں تعلیمی مراکز قائم ہو چکے ہیں۔
صحت کے شعبے میں ترقی کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت بلوچستان میں صرف تین بڑے ہسپتال اور چھ ڈسپنسریاں تھیں، جبکہ آج صوبے میں 13 بڑے اسپتال، 18 ٹیچنگ اسپتال، 36 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال، 756 بنیادی مراکز صحت، 650 ڈسپنسریاں، پانچ کارڈیک سینٹرز، آٹھ ٹی بی سینٹرز اور درجنوں دیگر طبی مراکز عوام کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں احساسِ محرومی کا بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، بلکہ اسے ریاست کے خلاف منظم پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں احساسِ محرومی کا بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ 1949 میں پورے بلوچستان میں صرف 375 کلومیٹر سڑکیں تھیں، جبکہ آج صوبے میں سڑکوں کا جال 24 ہزار 433 کلومیٹر تک پھیل چکا ہے، جس میں چار ہزار 400 کلومیٹر سے زائد قومی شاہراہیں بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ترقیاتی وسائل کا جائزہ لیا جائے تو بلوچستان کا فی کس بجٹ ملک کے دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب، سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ صوبے کو وسائل سے محروم رکھا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں جان بوجھ کر بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ مزدوروں، انجینئروں، اساتذہ اور دیگر ماہرین کو قتل کیا جاتا ہے، سڑکوں، پلوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر حملے کیے جاتے ہیں تاکہ صوبے میں ترقی نہ ہو سکے، پھر اسی صورتحال کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بلوچستان پسماندہ ہے اور ریاست ترقی نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں صنعتیں قائم ہوں، زراعت ترقی کرے، تعلیمی ادارے فعال ہوں یا نوجوان تعلیم حاصل کر کے آگے بڑھیں، کیونکہ اس سے فرسودہ سردارانہ نظام کمزور ہوگا اور عام شہری خودمختار بن جائیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے احساسِ نمائندگی کے بیانیے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 1973 سے بلوچستان میں بھی وہی جمہوری اور انتخابی نظام نافذ ہے جو ملک کے دیگر صوبوں میں رائج ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں بار بار وہی سیاسی خاندان، نواب، سردار، مذہبی جماعتیں اور بااثر شخصیات انتخابات جیت کر اسمبلیوں میں پہنچتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی لوگ کامیاب ہوں تو اسے جمہوریت کہا جاتا ہے، لیکن نتائج مختلف ہوں تو اسی نظام پر اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔
لاپتا افراد کے معاملے پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حکومت نے اس مسئلے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں مستقل کمیشن قائم کر رکھا ہے، جس کے نمائندے ہر ضلع میں موجود ہیں اور ہر کیس کی قانونی طریقہ کار کے مطابق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملے کو بھی ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے لیے باقاعدہ آئینی اور قانونی فورم موجود ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ لاپتا افراد کے معاملے پر بھی حقائق کے برعکس بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے، جبکہ حکومت نے اس مقصد کے لیے باقاعدہ کمیشن قائم کر رکھا ہے، جہاں ہر کیس کی تحقیقات کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے لاپتا ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اس کا نام، شناختی کارڈ، والد کا نام اور دیگر تفصیلات کمیشن کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ ان کی تحقیقات ہو سکیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2010 کے اوائل میں لاپتا افراد کا کمیشن قائم ہونے کے بعد اب تک مجموعی طور پر 10 ہزار 901 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 9 ہزار 372 کیس نمٹا دیے گئے، جبکہ ایک ہزار 529 کیسز پر کارروائی جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نمٹائے گئے مقدمات میں تقریباً 4 ہزار 896 افراد اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ تقریباً 730 افراد مختلف جیلوں یا حراستی مراکز میں موجود پائے گئے۔ اسی طرح 308 افراد کے انتقال کی تصدیق ہوئی، جبکہ تقریباً 2 ہزار 400 کیسز میں تفصیلی تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہوا کہ انہیں لاپتا افراد کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے سب سے زیادہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، لیکن کمیشن کے پاس صوبے سے مجموعی طور پر تقریباً 2 ہزار 933 کیسز آئے، جن میں سے 2 ہزار 767 نمٹا دیے گئے اور صرف 166 کیسز زیرِ التوا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور دیگر صوبوں سے بھی اسی نوعیت کے کیسز سامنے آتے ہیں، تاہم بلوچستان کے معاملے کو جان بوجھ کر زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جن افراد کو بعض حلقے “لاپتا” قرار دیتے ہیں، ان میں سے متعدد بعد ازاں دہشت گرد کارروائیوں میں مارے جاتے ہیں یا ان کی شناخت مختلف واقعات میں سامنے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مواقع پر ان افراد کی تصاویر اور شناختی معلومات کمیشن کے ریکارڈ سے بھی مطابقت رکھتی ہیں، جبکہ بعض خاندان خود بھی بعد میں یہ واضح کر دیتے ہیں کہ ان کا ایسے افراد کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان سے متعلق منفی بیانیہ مضبوط کرنے کے لیے منظم انداز میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، جس کا ایک اہم حصہ دہشت گرد حملوں کی ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے لیے تیار کیا جانے والا مواد ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض دہشت گرد حملوں میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کارروائی سے زیادہ ویڈیو بنانے پر توجہ دی جا رہی ہو۔ حملہ آور پولیس اسٹیشن یا دیگر مقامات پر حملے کے دوران مختلف زاویوں سے ویڈیوز ریکارڈ کرتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مقصد صرف حملہ نہیں بلکہ پروپیگنڈا مواد تیار کرنا بھی ہوتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ویڈیوز بعد میں مخصوص سیاسی عناصر اور ریاست مخالف حلقوں کے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ بلوچستان میں صورتحال قابو سے باہر ہے۔ ان کے مطابق ایسے عناصر کو اپنے دعووں کے لیے مسلسل “کنٹینٹ” درکار ہوتا ہے، جسے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بار بار نشر کر کے عوام کے ذہنوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کا کل رقبہ تقریباً 3 لاکھ 47 ہزار 190 مربع کلومیٹر ہے، جبکہ دنیا کے کئی ممالک کا رقبہ بھی اس سے کم ہے۔ اس کے باوجود صوبے کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 49 لاکھ ہے، جو ملک کے دیگر بڑے شہری مراکز، جیسے لاہور اور کراچی، کے مقابلے میں بہت کم اور وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کی جغرافیائی وسعت اور کم آبادی کو نظرانداز کر کے صرف چند واقعات کی بنیاد پر صوبے کی مجموعی صورتحال کا تاثر دینا درست نہیں اور یہی طرزِ عمل ریاست مخالف پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تنقید کرنے والوں کو زمینی حقائق بھی دیکھنے چاہییں اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کے جوان کس مشکل ماحول اور کن محدود وسائل کے ساتھ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حقائق کو محض تقاریر یا بیانیے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایف سی اور دیگر سکیورٹی فورسز بلوچستان میں دہشت گردوں، ریاست مخالف عناصر اور مسلح گروہوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ فتنہ الہند، خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہ بھارت، آر ایس ایس اور افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کی سرپرستی اور تعاون سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ عناصر سکیورٹی فورسز کا سامنا کرتے ہیں تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ فورسز دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کا تعاقب کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال اب تک سکیورٹی فورسز 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو ہلاک کر چکی ہیں، جبکہ دہشت گرد تنظیموں نے بلوچستان میں عام شہریوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال بلوچستان میں دہشت گردوں نے 178 شہریوں کو شہید کیا، 55 افراد کو اغوا کیا، 24 مقامات پر سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، جبکہ 60 مختلف مقامات پر ٹرکوں، ایل پی جی گاڑیوں اور دیگر کاروباری املاک کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ 47 واقعات میں بینکوں، اے ٹی ایمز، دکانوں اور دیگر املاک پر حملے اور لوٹ مار کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کا اصل ہدف عام شہری، ترقیاتی منصوبے اور بلوچستان کی معاشی سرگرمیاں ہیں، تاکہ صوبے میں خوف و ہراس پھیلا کر ترقی کا عمل روکا جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے گڈ گورننس انتہائی اہم ہے اور اس کے بغیر معاملات حل نہیں ہو سکتے، اس مقصد کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے پاکستان کے نظام سے متعلق حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور انہوں نے ذاتی حیثیت میں بیان دیا، لہٰذا اس پر بات نہیں کریں گے۔
آبادی میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 1972 میں پاکستان کی آبادی 7 سے 8 کروڑ تھی جو آج 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، یعنی آبادی 4 گنا بڑھ چکی ہے۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ اس کا فیصلہ ریاست نے نہیں بلکہ عوام نے کرنا ہے۔
پاکستان اور آزاد کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیریوں کی آواز یہی ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور دونوں اٹوٹ انگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے سارے ہی بچے عزیز ہیں لیکن سب سے لاڈلہ بچہ کشمیر ہے، اور کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ پکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وسائل کی تقسیم میں سب سے زیادہ حصہ کشمیر کو دیا جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے حالیہ احتجاج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے آنے والے مہاجرین کی نمائندگی نہیں ہونی چاہیے۔
کشمیر، کشمیریوں کا ہے لیکن اٹوٹ انگ پاکستان کا ہے، ان لوگوں نے ریاست میں حقوق کے نام پر گیم چلائی لیکن مقاصد کچھ اور تھے جو اب سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کلمے کی بنیاد پر بنا اور اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا دہشتگردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل چند روز قبل واضح انداز میں اس معاملے پر بات کر چکے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2019 میں بھی بھارت کی ’طبیعت صاف‘ ہوئی تھی جبکہ 2025 میں تو بھارت کی اگلی پچھلی طبیعت بھی صاف ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ کبھی پہلگام تو کبھی پہلواما کا ڈراما رچایا گیا۔
بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ہی وہاں کے اصل اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کا پروپیگنڈا بھی ناکام ہو چکا ہے۔