اداکارہ تبو نے شخصی حقوق کے تحفظ کیلئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا
بالی وڈ کی معروف اداکارہ تبو، جن کا اصل نام تبسم جمال ہاشمی ہے، نے منگل کے روز اپنے شخصی حقوق کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنے نام، تصویر، شناختی مشابہت اور شخصیت سے وابستہ دیگر خصوصیات کے مبینہ غیر مجاز استعمال کے خلاف قانونی تحفظ طلب کیا ہے۔
شخصی حقوق، جنہیں "پبلسٹی رائٹس" بھی کہا جاتا ہے، ایسے حق کو ظاہر کرتے ہیں جس کے تحت کوئی فرد اپنی شناخت یا شخصیت سے مالی یا دیگر فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس میں کسی فرد کا نام، تصویر، آواز، انداز، یا وہ جملے اور حرکات شامل ہیں جو اس سے منسوب ہوں۔ یہ حقوق کسی شخص کی شناخت کے غلط استعمال یا غیر قانونی تجارتی فائدے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں اور صرف اسی فرد تک محدود ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر کوئی مشہور شخصیت اپنی شہرت کی بنیاد پر کسی شے کی تشہیر کے بدلے معاوضہ حاصل کر سکتی ہے، لیکن اس کی تصویر یا شناخت کو کوئی دوسرا شخص یا ادارہ اس کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتا۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مختلف ویب سائٹس، سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز اور برقی تجارتی ویب گاہوں پر ان کی شناخت اور شہرت کو بغیر اجازت استعمال کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ تبو نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز ہندی فلم "وجے پتھ" سے کیا تھا۔
تبو کی جانب سے دائر کی گئی یہ درخواست دہلی ہائی کورٹ میں شخصی حقوق کے تحفظ سے متعلق مقدمات کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جعلی ویڈیوز اور ڈیجیٹل جعل سازی کے فروغ کے ساتھ ہی معروف شخصیات اور عوامی نمائندے اپنے نام، تصویر، آواز اور دیگر شناختی خصوصیات کے غیر مجاز تجارتی استعمال کے خلاف عدالتی تحفظ حاصل کرنے کے لیے زیادہ تعداد میں عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں۔
اس مقدمے کی سماعت جسٹس جیوتی سنگھ نے کی۔ عدالتی خبروں کی ویب سائٹ "لائیو لا" کے مطابق سماعت کے دوران تبو کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل سواتھی سوکمار کو عدالت نے فریقین کی نئی فہرست جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ موجودہ فہرست میں بعض مدعا علیہان کی مکمل اور درست تفصیلات درج نہیں تھیں۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 6 اگست کو مقرر کی گئی ہے۔