Sports

غیر معمولی سرد موسم اور ٹھنڈی ہواؤں سے جسم اکڑ گیا تھا،ارشد ندیم

غیر معمولی سرد موسم اور ٹھنڈی ہواؤں سے جسم اکڑ گیا تھا،ارشد ندیم
۴ دن پہلے

کامن ویلتھ گیمز میں اپنے اعزاز کا دفاع نہ کر پانے پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور عالمی شہرت یافتہ جیولن تھروور ارشد ندیم نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی کارکردگی کی وجہ بیان کر دی۔

 

ارشد ندیم نے قوم سے توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا پانے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کھیل میں ہر کھلاڑی کا اچھا اور برا دن آتا ہے، کوئی بھی ایتھلیٹ جان بوجھ کر خراب کارکردگی نہیں دکھاتا۔

 

ارشد ندیم نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان میں گرم موسم میں ٹریننگ کی تھی، لیکن گلاسگو میں مقابلے کے دوران غیر معمولی سرد موسم اور ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے ان کی باڈی اکڑ گئی، جس کے باعث وہ مناسب رن اپ نہ لے سکے اور اپنی بہترین تھرو کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں وہ اکثر پوری رفتار سے رن اپ لیتے ہوئے فاؤل کر جاتے تھے، تاہم اس بار مسئلہ فٹنس کا نہیں بلکہ موسم کا تھا۔ انہوں نے کہا، "میری تیاری مکمل تھی، لیکن سردی کی وجہ سے جسم نے ساتھ نہیں دیا۔

 

اولمپک چیمپئن نے کہا کہ وہ جانتے ہیں پاکستانی قوم ان سے سونے کے تمغے کی امید لگائے بیٹھی تھی اور وہ اس بار ان توقعات پر پورا نہیں اتر سکے، تاہم انہوں نے اپنی جانب سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر راضی ہیں کیونکہ جو اللہ کو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے۔

 

ارشد ندیم نے کہا کہ کھیل میں کامیابی اور ناکامی دونوں آتی ہیں اور یہی اسپورٹس کا حسن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس ناکامی سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے زیادہ محنت کے ساتھ آئندہ مقابلوں کی تیاری کریں گے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اب ان کی تمام توجہ 11 سے 13 ستمبر تک ہنگری کے شہر بڈاپسٹ میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ اور ستمبر کے آخر میں ہونے والے ایشین گیمز پر مرکوز ہے، جہاں وہ بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔

 

سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے ارشد ندیم نے کہا کہ انہوں نے کچھ منفی تبصرے دیکھے جن سے انہیں دکھ ضرور ہوا، لیکن وہ پاکستان کے بیٹے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے بقول اگر قوم ناراضی کا اظہار کرتی ہے تو وہ اسے بھی اپنا حق سمجھتے ہیں، تاہم اس وقت انہیں سب سے زیادہ قوم کی دعاؤں، اعتماد اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

 

انہوں نے پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ وہ دل چھوٹا نہ کریں اور ان کا ساتھ دیں تاکہ وہ مزید اعتماد کے ساتھ آئندہ مقابلوں میں پاکستان کا پرچم بلند کر سکیں۔

English Heading

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں