مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم نہیں،اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی اقدامات عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں، مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلیوں کی دراندازی قابلِ مذمت ہے، جبکہ بیت المقدس کے کسی بھی حصے پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
عمان میں فلسطین سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے اور وہاں کے لاکھوں شہری پانی، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا فوری تدارک ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری تسلیم نہیں کی جا سکتی اور وہاں کیے جانے والے یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے منافی ہیں۔
نائب وزیراعظم نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی عناصر کی دراندازی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات کے تقدس کی پامالی ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری ایسے اقدامات کا نوٹس لے اور انہیں روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی مسلسل حمایت کرتا رہے گا اور فلسطین سے متعلق بورڈ آف پیس کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ بین الاقوامی قانون، انصاف اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے اصولوں کے مطابق رہا ہے۔
غزہ میں جاری جنگ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کشیدگی کے باعث انسانی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔
اسرائیلی کارروائیوں، امدادی سامان کی محدود رسائی اور بنیادی سہولتوں کی قلت کے باعث لاکھوں فلسطینی شدید مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ سے متعلق اقدامات پر بھی عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
ایسے حالات میں اردن کے دارالحکومت عمان میں منعقدہ فلسطین کانفرنس میں متعدد ممالک نے خطے کی صورتحال، انسانی امداد اور بین الاقوامی قانون کے نفاذ پر زور دیا۔