پیک شدہ گھی، خوردنی تیل اور دودھ کے 36 فیصد نمونے غیر معیاری نکلے
وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے پیک شدہ خوردنی تیل، گھی اور دودھ کے معیار سے متعلق لیبارٹری رپورٹ جاری کردی گئی، جس کے مطابق 491 نمونوں میں سے 176 قومی معیار پر پورے نہیں اترے۔ رپورٹ کے مطابق 315 نمونے معیار کے مطابق قرار پائے جبکہ تقریباً 36 فیصد نمونے غیر معیاری نکلے۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق بناسپتی گھی کے 204 نمونوں میں سے 98، بلینڈڈ کوکنگ آئل کے 146 میں سے 40 اور پیک شدہ مائع دودھ کے 104 میں سے 26 نمونے غیر معیاری قرار دیے گئے۔ دودھ کے پاؤڈر کے 18 میں سے 8 جبکہ ریفائنڈ پام آئل کے 4 میں سے 3 نمونے بھی معیار پر پورے نہیں اترے۔ ریفائنڈ کینولا آئل کے 13 نمونوں میں سے ایک نمونہ غیر معیاری پایا گیا۔
وزارتِ منصوبہ بندی نے اب کھلے گھی، خوردنی تیل اور دودھ کے معیار کا ملک گیر سروے کروانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت تمام صوبوں اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ سروے کے دوران خوراک کے معیار کا سائنسی جائزہ لینے کے ساتھ غیر معیاری خوراک سے عوامی صحت کو لاحق خطرات اور مختلف علاقوں میں خوراک کے معیار کے رجحانات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
نتائج کا جائزہ لینے کے لیے تکنیکی ذیلی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے، جس میں وزارتِ منصوبہ بندی، پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ماہرین شامل ہیں۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ خوراک کا معیار قومی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے اور ہر شہری کو محفوظ، صحت بخش اور معیاری خوراک کی فراہمی حکومت کی ذمے داری ہے۔