Breaking News

دھرنےوالےانتخابات روکنا چاہتے تھے کامیاب نہیں ہوسکے،رانا ثناء اللّٰہ

دھرنےوالےانتخابات روکنا چاہتے تھے کامیاب نہیں ہوسکے،رانا ثناء اللّٰہ
۱ منٹ پہلے

وزیرِ اعظم کے مشیرِ سیاسی اُمور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ دھرنے دینے والے آزاد کشمیر کے انتخابات روکنا چاہتے تھے، تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

 

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے منتخب نمائندوں کو مینڈیٹ دے دیا ہے اور انتخابات کے تیسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد حکومت سازی کا عمل شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دھرنا دینے والی قوتیں اب حقائق کا ادراک کرتے ہوئے احتجاج ختم کردیں گی، جبکہ حکومت مظاہرین کے جائز مطالبات کا جائزہ لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہتھیار اٹھانے اور دشمن کا آلۂ کار بننے والوں کو قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔

 

رانا ثناء اللّٰہ نے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الزام لگانے والوں نے اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اپنی شکست کو دھاندلی کے بیانیے کے ذریعے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر آزاد کشمیر میں پولنگ کا عمل پُرامن رہا اور عوام کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے والے عناصر اپنے مقاصد میں ناکام ہوگئے۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک کے انتخابی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے بعد عوام نے اپنے نمائندوں کو مینڈیٹ دیا ہے اور تیسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد حکومت سازی شروع ہوجائے گی۔

 

اس موقع پر وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے بھی آزاد کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے مسلم لیگ ن پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، جسے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی، عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا حل مسلم لیگ ن کی اولین ترجیح ہے۔

 

امیر مقام کے مطابق حویلی کے جلسے میں ہزاروں افراد کی شرکت اور پولنگ سے قبل عوام کا جوش و خروش مسلم لیگ ن سے وابستگی کا واضح اظہار تھا۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کے الزامات اپنی جگہ، عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے جواب دے دیا ہے اور سندھ، پنجاب سمیت دیگر علاقوں سے آنے والوں کو بھی آزاد کشمیر کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر انتخابی عمل پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق انتخابات سے قبل مخالف امیدوار انتظامیہ، پولیس، ڈپٹی کمشنر اور ڈی آئی جی سمیت دیگر افسران پر جانبداری کے الزامات عائد کرتے رہے، تاہم ان اعتراضات کے باوجود عوام بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلے۔

 

امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن کی قیادت اور امیدواروں پر اعتماد کیا ہے اور اگر اللہ نے توفیق دی تو عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا کہ مسلسل الزامات لگانے کے بجائے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ مرحلہ وار انتخابات کا فیصلہ حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا اور اگر پیپلز پارٹی کو اس پر تحفظات تھے تو اسے اسی وقت اپنا مؤقف سامنے لانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق 2016 میں بھی آزاد کشمیر میں مختلف صوبوں سے سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے، اس لیے صرف پنجاب پولیس کی تعیناتی پر اعتراض بلاجواز ہے۔

 

امیر مقام نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر میں عوامی لہر واضح ہے اور پیپلز پارٹی انتخابات ہار چکی ہے، لہٰذا عوام کے فیصلے اور مینڈیٹ کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں