اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف کی فیفا پر سخت تنقید
ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی)، یوئیفا اور کونکاکاف نے فیفا قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ورلڈکپ میں حصص فروخت کرنے کی کوشش کو فیصلہ سازی کی سنگین ناکامی اور اعتماد کی بنیادی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
تینوں کنفیڈریشنز کے صدور اور جنرل سیکریٹریز کی جانب سے جاری مشترکہ کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ معاملہ پیسے کا نہیں بلکہ فٹبال کی سالمیت اور ان منتخب افراد کی دیانت و کردار کا ہے جو فٹبال کی قیادت کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔ خط پر اے ایف سی کے صدر سلمان بن ابراہیم الخلیفہ، کونکاکاف کے صدر وکٹر مونٹاگلیانی اور یوئیفا کے صدر الیگزینڈر چےفرین سمیت تینوں اداروں کے جنرل سیکریٹریز نے دستخط کیے ہیں۔
مشترکہ خط میں کہا گیا کہ فٹبال میں قیادت کسی فرد کی ملکیت نہیں بلکہ فٹبال فیملی کی جانب سے سونپی گئی خدمت کی ذمہ داری ہے۔ تینوں کنفیڈریشنز کے مطابق جب دھوکے کے ذریعے اعتماد توڑا جائے اور کوئی فرد اسے اختیار دینے والے اجتماعی نظام سے خود کو بالاتر سمجھنے لگے تو قیادت کی ذمہ داری ترک کردی جاتی ہے۔
خط میں فیفا کے حالیہ مراسلے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں 211 رکن ممالک اور فیفا نائب صدور کو پیش آنے والے معاملے سے آگاہ کیا گیا تھا۔ تینوں کنفیڈریشنز نے فیفا کی جانب سے معاملے کو رابطے کی ناکامی قرار دینے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال نے جو کچھ دیکھا وہ دراصل فیصلہ سازی کی ناکامی تھی۔
مشترکہ خط میں الزام عائد کیا گیا کہ ایک تجویز کو محدود مدت میں، بامعنی مشاورت کے بغیر اور ایسی ڈیڈ لائن کی جانب آگے بڑھایا گیا جس سے قبل رکن ممالک کو اس کی شرائط کا مناسب جائزہ لینے کا موقع نہیں مل سکا۔ تینوں کنفیڈریشنز کے مطابق فیفا نے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ بنیادی مسئلہ خود اس تجویز میں تھا۔
خط کے مطابق فیفا ورلڈکپ میں حصص فروخت کرنے کی کوشش محض طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ ایک سنگین فیصلہ سازی کی ناکامی اور ان اداروں کے ساتھ اعتماد کی بنیادی خلاف ورزی تھی جن کی خدمت کے لیے فیفا قائم کیا گیا ہے۔
اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف نے معاملے کے فیفا کے اندرونی جائزے کی تجویز پر بھی اعتراض کیا ہے۔ فیفا نے ان واقعات پر مکمل رپورٹ فیفا کونسل کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم تینوں کنفیڈریشنز کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سنگین معاملے کی تحقیقات مکمل طور پر ایک آزاد تیسرے فریق سے کرائی جانی چاہئیں۔
مشترکہ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ فیفا انتظامیہ، اس کے اسٹاف یا فٹبال سے وابستہ کسی اسٹیک ہولڈر کو تحقیقات میں کوئی کردار نہیں ملنا چاہیے۔ تینوں اداروں نے متعلقہ تمام دستاویزات اور ریکارڈ محفوظ رکھنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
خط میں مراکش میں ہونے والے ایک حالیہ اجلاس پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تینوں کنفیڈریشنز کے مطابق فیفا کے اپنے خط سے تصدیق ہوتی ہے کہ مراکش میں ہونے والے اجلاس میں صرف ایک منتخب عہدیدار موجود تھا۔ فیفا کونسل کے کسی رکن یا رکن ممالک کو اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی، جبکہ فیفا میں ملازمت کرنے والے اعلیٰ انتظامی عہدیداروں پر مشتمل مینجمنٹ کمیٹی کے بھی صرف بعض ارکان اجلاس میں شریک ہوئے۔
اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف کے مطابق مینجمنٹ کمیٹی کے مکمل ارکان کے بجائے منتخب ارکان کو بیرون ملک بلانا ان خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے جو موجودہ تنازع کا باعث بننے والے طرز عمل سے متعلق ہیں۔
تینوں کنفیڈریشنز نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض پیسے یا فٹبال کے پہلے سے کیے گئے اجتماعی فیصلوں پر نہیں ہے۔ خط میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران فٹبال کی ترقی کسی ایک فرد کا کارنامہ نہیں بلکہ فیفا، کنفیڈریشنز، رکن ممالک اور کھیل کے لیے کام کرنے والے ہزاروں افراد کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
2030 اور 2034 ورلڈکپ کی میزبانی، ٹورنامنٹس میں توسیع اور رکن ممالک کو وسائل کی فراہمی سمیت اہم فیصلے اجتماعی طور پر کیے گئے اور انہیں اسی طرح برقرار رہنا چاہیے۔ تینوں کنفیڈریشنز نے فیفا کے موجودہ وسیع مالی ذخائر کو ذمہ داری کے ساتھ رکن ممالک کی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاہم کہا کہ موجودہ تنازع بنیادی طور پر فٹبال کی سالمیت اور قیادت کے کردار سے متعلق ہے۔
مشترکہ خط میں کہا گیا کہ جہاں جوابدہی ہونی چاہیے وہاں خاموشی اور جہاں شفافیت ہونی چاہیے وہاں فاصلے نظر آرہے ہیں۔ تینوں کنفیڈریشنز کے مطابق یہ وہ خصوصیات نہیں جن کی فٹبال کو اپنی قیادت سے توقع ہے۔
خط کے اختتام پر اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف نے فٹبال میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فٹبال کی طاقت ہمیشہ اس کے اتحاد میں رہی ہے اور قیادت ایسی ہونی چاہیے جو فٹبال کی خدمت کرے، اسے اپنے اختیار میں رکھنے کی کوشش نہ کرے۔
خط پر اے ایف سی صدر سلمان بن ابراہیم الخلیفہ، کونکاکاف صدر وکٹر مونٹاگلیانی، یوئیفا صدر الیگزینڈر چےفرین، اے ایف سی جنرل سیکریٹری ونڈسر جان، کونکاکاف جنرل سیکریٹری فلپ موگیو اور یوئیفا جنرل سیکریٹری تھیوڈور تھیوڈوریڈس نے دستخط کیے ہیں۔