کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے کی نعش جنوبی لندن سے برآمد
کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے جنوبی لندن میں مردہ پائے گئے ہیں۔ 41 سالہ سیاہ فام ماہرِ تعلیم نے مبینہ علمی سرقے کے ایک ہائی پروفائل اسکینڈل کے بعد گزشتہ ہفتے یونیورسٹی سے استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد برطانیہ کے علمی حلقوں میں نسل پرستی کے الزامات اور شدید بحث چھڑ گئی تھی۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق جمعے کی سہ پہر بٹرسیا کے علاقے میں ایک شخص کے بے ہوش حالت میں پائے جانے کی اطلاع پر پولیس اور ایمبولینس سروس موقع پر پہنچی، جہاں 41 سالہ شخص کو مردہ قرار دے دیا گیا۔
پولیس نے کہا کہ موت غیر متوقع ہے تاہم اسے مشتبہ نہیں سمجھا جا رہا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور رپورٹ کورونر کو بھیجی جائے گی۔ کیمبرج یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈیبورا پرینٹس نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
جیسن آرڈے 2023 میں کیمبرج یونیورسٹی کے کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر بنے تھے۔ تاہم رواں سال جولائی میں ان کے ڈاکٹریٹ کے مقالے کے بعض حصوں پر دیگر تحقیقی کاموں سے نقل کرنے کے الزامات سامنے آئے۔
برطانوی اخبارات ’ٹائمز‘ اور ’ٹیلی گراف‘ نے ان کے علمی کام اور ذاتی زندگی سے متعلق متعدد رپورٹس شائع کیں، جبکہ دائیں بازو کے حلقوں نے ان کی تقرری کو تنوع، مساوات اور شمولیت کی پالیسیوں سے جوڑا۔
آرڈے نے 5 اگست کو پروفیسر اور جیزس کالج کے فیلو کی حیثیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشکل دور ختم کرنے کے لیے استعفیٰ ہی واحد راستہ ہے، تاہم اسے اپنے خلاف سامنے آنے والے بیانیے کو تسلیم کرنے کے مترادف نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے اپنے علمی کام میں ’غلطیوں‘ کا اعتراف کیا تھا، لیکن خود کو جھوٹا، خیالی دعوے کرنے والا اور علمی فراڈ کرنے والا قرار دیے جانے کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ انہیں عہدے سے ہٹانے کی مہم نسلی تعصب پر مبنی ہے۔