Breaking News

معاہدہ وقار کیساتھ آگے بڑھایا،ایرانی صدر، پاکستان ،قطر کشیدگی کم کرارہے ہیں،بقائی

معاہدہ وقار کیساتھ آگے بڑھایا،ایرانی صدر، پاکستان ،قطر کشیدگی کم کرارہے ہیں،بقائی
۲۲ گھنٹے پہلے

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ معاہدے کو طاقت کے ساتھ آگے بڑھایا گیا اور دشمنوں کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا گیا۔

 

تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے وقار اور طاقت کے ساتھ امریکا کے ساتھ امن کی مفاہمتی یادداشت تک رسائی حاصل کی۔

 

ایرانی صدر نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت طے کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے وضع کردہ اصولوں کو مدنظر رکھا گیا۔

 

مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت ماہرین کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے بعد تیار کی گئی تھی۔ پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر 17 جون کو دستخط ہوئے تھے۔

 

امریکی میڈیا کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں جنگ کے مکمل خاتمے اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روز کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ 60 روز کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

 

 

ایران کی ثابت قدمی نے دشمنوں کے منصوبے ناکام بنا دیے: اسماعیل بقائی

 


ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کی ثابت قدمی نے دشمنوں کے اندازوں اور منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیا۔

 

ایران پاکستان اور قطر کےساتھ رابطہ جاری رکھے ہوئے ہے، پاکستان اور قطر موجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی اور ثالث موجود نہیں ہے۔

 

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں 60 دن کی ڈیڈ لائن کی کوئی شرط شامل نہیں تھی۔ امریکا نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے چند ہفتوں بعد ہی اس کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔

 

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کی وجہ امریکا کے غیر قانونی اقدامات ہیں۔ بعض فریقوں نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کیں، جس کے باعث مذاکراتی عمل طویل ہو گیا۔

 

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران ڈیڈ لائنز اور الٹی میٹمز کے دباؤ میں فیصلے نہیں کرتا۔

 

ان کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور فریقین آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے طریقۂ کار پر کام کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت میں مقرر کی گئی ڈیڈ لائن پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاملے پر مذاکرات کرنے کے لیے تھی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں