امریکا ایران کے خلاف سب سے بڑا معاشی حملہ کرے گا، سکاٹ بیسنٹ
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اقتصادی کارروائی شروع کرے گا، جو کسی دشمن ملک کے خلاف کیا جانے والا سب سے بڑا معاشی حملہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اب آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، اس کی تقریباً 100 فیصد فوجی فیکٹریاں تباہ کر دی ہیں اور اس کے جوہری پروگرام کو دفن کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کے آمرانہ نظام کو برقرار رکھنے والی تمام اہم اقتصادی شریانوں اور راستوں کو کاٹ دینا ہے، تاکہ بالآخر تہران مکمل طور پر تنہا رہ جائے۔ ایران سے تعاون کرنے والے ممالک بھی زد میں آئیں گے۔
سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں حکومت کے تمام اداروں کی مکمل صلاحیت، تمام قانونی اختیارات اور وہ اقدامات استعمال کیے جا سکتے ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا سہارا نہیں لے گا۔
سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکی حکومت پیر سے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرے گی، یہ پابندیاں ایرانی حکومت کے خاتمے کا باعث بنیں گی۔
معاشی جنگ سے کامیابی نہیں ملے گی، لیون پینیٹا
امریکا کے سابق وزیرِ دفاع لیون پینیٹا نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف معاشی جنگ سے امریکا کو کامیابی نہیں ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کرکے امریکا پر اقتصادی دباؤ بڑھا رہا ہے۔
لیون پینیٹا کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ اقدامات تہران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکیں گے۔
علاوہ ازیں، امریکی فوج کے سابق افسر سیڈرک لائٹن نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کو غذائی اجناس اور طبی سامان کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالنا جنگی جرم ہوگا۔