Breaking News

میر رضا کیس،جے آئی ٹی کیلئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست، رجسٹرڈ سِم حاصل

میر رضا کیس،جے آئی ٹی  کیلئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست، رجسٹرڈ سِم حاصل
۱ منٹ پہلے

 جے آئی ٹی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست

 

 

نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کی تحقیقات کے معاملے پر متوفی کے اہلِ خانہ نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی مخالفت کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

 

میر رضا کے اہلِ خانہ کے وکیل جبران ناصر نے ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیس میں اب تک ہونے والی پیش رفت اور پولیس کی جانب سے شواہد کے تحفظ سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

 

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ پہلے دن سے اس کیس کی تحقیقات میں شدید شکوک و شبہات موجود ہیں، اور جیو فینسنگ کے علاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی برآمدگی سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن صرف اپنے حقائق یا فائنڈنگز دے سکتا ہے، جس کی ہم حمایت نہیں کر رہے، کیونکہ اصل کام اور چھان بین تفتیشی اداروں کی جانب سے ہونی چاہیے۔

 

وکیل نے سوال اٹھایا کہ تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں اہم شواہد کیوں ضائع ہوئے اور اس غفلت میں ملوث حکام کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

 

جبران ناصر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے ہائی کورٹ کے جج کو نامزد کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس کی سرکاری کاپی ابھی تک متاثرہ فیملی کو فراہم نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو بھی ایک خط تحریر کیا گیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق جوڈیشل کمیشن انہی مقدمات میں قائم ہوتا ہے جہاں متعلقہ کمیٹی کی سفارش موجود ہو، اس لیے ہماری استدعا ہے کہ مختلف سکیورٹی و انٹیلی جنس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک بااختیار جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔

 

جبران ناصر نے تفتیشی عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ تفتیشی افسر مجسٹریٹ کے سامنے پیش تو ہوئے ہیں، لیکن نہ تو انہوں نے کسی ملزم کو نامزد کیا ہے اور نہ ہی فی الحال کسی ضمنی چالان کے پیش کیے جانے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ پرانی تفتیشی ٹیم کے خلاف اگر کوئی قانونی یا انتظامی کارروائی کی جا رہی ہے تو اس سے بھی اہلِ خانہ کو آگاہ کیا جائے، کیونکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سابق تفتیشی ٹیم سے کوئی پوچھ گچھ کی گئی ہے یا نہیں۔

 

 

 

پولیس نے کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان تاجر میر رضا کے نام پر رجسٹرڈ سِم حاصل کر لی۔

 

پولیس کی درخواست پر متعلقہ موبائل کمپنی نے میر رضا کے نام پر رجسٹرڈ سِم جاری کی ہے اور اس کی ملکیت اب میر رضا کی والدہ کے نام پر منتقل کر دی گئی ہے۔

 

بائیومیٹرک اور دستاویزی کارروائی کے بعد مذکورہ سِم جاری کی گئی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی سِم کے ڈیٹا کے ذریعے تحقیقات کو آگے بڑھائے گی۔

 

سِم کے ذریعے میر رضا کے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کی جائے گی، بیک اپ ڈیٹا حاصل کرکے تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی۔

 

واٹس ایپ اکاؤنٹ سے حاصل معلومات کیس میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

 

 

آخری 12 گھنٹے کی مصروفیات کی تفصیلات مرتب

 

 

دوسری جانب میر رضا قتل کیس کی تحقیقاتی کمیٹی نے مقتول کی آخری 12 گھنٹے کی مصروفیات کی تفصیلات مرتب کر لی ہیں۔

 

ان تفصیلات کے مطابق میر رضا آخری 12 گھنٹے سرمایہ کاری اور قرض کے حصول کی کوشش کرتے رہے۔ 27 جولائی شام 5 بج کر 54 منٹ پر شارع فیصل پر مقتول نے احمد راجہ نامی شخص سے ملاقات کی، جس میں 70 سے 80 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق گفتگو کی گئی۔ رات 7 بج کر 5 منٹ پر بینک کال میں بہن کے نام پر ایک کروڑ روپے قرض منظور ہونے کی اطلاع دی گئی۔

 

میر رضا کو رات 8 بج کر 23 منٹ پر فاروق محمود نے فون کرکے سرمایہ کاری سے معذرت کر لی۔ رات 11 بج کر 50 منٹ پر انہوں نے دوست عبدالرزاق کے ساتھ غفار کباب ہاؤس پر کھانا کھایا۔ رات 12 بجے میر رضا نے صارم سید سے ہنگامی بنیادوں پر 3 کروڑ روپے قرض مانگا اور اگلی صبح انتہائی مشکل ہونے کا ذکر کیا گیا، جبکہ ان کی گھڑی میں مالی آزادی اور قرض کی ادائیگی سے متعلق دعا بھی موجود ہے۔

 

رات 12 بج کر 23 منٹ پر میر رضا نے گھر پر اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کیا۔ رات 2 بج کر 42 منٹ پر فیس بک، لنکڈ اِن اور اسنیپ چیٹ اکاؤنٹس بند کیے گئے۔ 3 بج کر 10 منٹ پر منگیتر نے متعدد کالز اور میسجز کیے مگر کوئی جواب نہیں دیا، جس کے بعد منگیتر نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس غائب ہونے پر میسجز میں تشویش کا اظہار کیا۔

 

رات 3 بج کر 18 منٹ پر میر رضا نے اپنے اکاؤنٹس سے رقم والدین کے اکاؤنٹس میں منتقل کی۔ 3 بج کر 42 منٹ پر میر رضا گھر سے اپنی دکان پہنچے اور سکیورٹی گارڈ کا پستول لے کر نکلے۔

 

رات 3 بج کر 53 منٹ پر میر رضا پستول کے ساتھ واپس گھر پہنچے۔ 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوئے۔ 4 بج کر 22 منٹ پر دورانِ سفر اپنا موبائل فون بند کرکے باہر پھینک دیا۔ 4 بج کر 35 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے جائے وقوعہ کے قریب پہنچے۔ 3 منٹ بعد انہیں جائے وقوعہ کی جانب اکیلے جاتے دیکھا گیا، جبکہ آخری فوٹیج لاش ملنے کے مقام سے تقریباً 100 سے 150 میٹر فاصلے کی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں