شوہر کے ہاتھوں قتل ہونیوالی حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری
راولپنڈی کے علاقے لال کڑتی میں اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل کی جانے والی 45 سالہ خاتون حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی۔
مقتولہ کا پوسٹ مارٹم موت کے 12 گھنٹے بعد ڈاکٹر ماریا خالد نے کیا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، جبکہ پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر بھی زخموں کے نشانات موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کی پیریکارڈیئم، یعنی دل کے گرد موجود جھلی، خون سے بھری ہوئی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
ابتدائی طور پر موت کی وجہ کا واضح تعین نہیں ہو سکا، جس کے لیے لاش سے حاصل کیے گئے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک کے لیے حاصل کیے گئے نمونے لیڈی کانسٹیبل رافعہ تبسم نے وصول کیے۔دوسری جانب حنا جاوید کیس کے 2 ملزمان کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
گرفتار 2 ملزمان، مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور اس کے ملازم ذیشان، کو علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے پولیس تحویل میں دے دیا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی ملزم کے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا، ملزم فیصل اصغر نے اپنے ملازم ذیشان کو قتل کی واردات میں شامل ہونے کے لیے پیسے دیے تھے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ملزمان سے قتل کی واردات میں استعمال ہونے والی رسی اور تار بھی برآمد کر لی گئی۔