World

جنگِ ایران کے 6 ماہ: طویل ہوتی جنگ امریکی انتظامیہ کے لیے گلے کا طوق بن گئی

جنگِ ایران کے 6 ماہ: طویل ہوتی جنگ امریکی انتظامیہ کے لیے گلے کا طوق بن گئی
۱ منٹ پہلے

ایران کے ساتھ عسکری تصادم کو 6 ماہ مکمل ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے معاملے پر عدم توجہی اور حقائق سے گریز کا رویہ سامنے آ رہا ہے۔ ابتدائی طور پر اس جنگ کو تیزی سے حاصل ہونے والی کامیابی قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم اب طویل ہوتا یہ تنازع نہ صرف ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت پر بھاری پڑ رہا ہے بلکہ ان کی عوامی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی کا باعث بن رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات پر پڑنے کے شدید امکانات ہیں۔

 

گزشتہ ہفتے ایک غیر رسمی پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے ہیلی پیڈ، بال روم اور گرینائٹ کی ٹائلوں کی تعریف کی، لیکن جس معاملے پر انہوں نے شاید ہی کوئی بات کی، وہ ایران جنگ تھی۔

 

ایران کے خلاف جس کارروائی کو ایک تیز رفتار پیش قدمی سمجھ کر شروع کیا گیا تھا، اسے 6 ماہ گزرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ یا تو اس جنگ سے اکتا چکے ہیں یا پھر حقیقت سے آنکھیں چرانے لگے ہیں، جبکہ یہ معرکہ ان کی دوسری صدارتی مدت کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔

 

وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان کی تزئین و آرائش کا دورہ کرانے کے بعد جب صحافیوں نے ایران سے متعلق سوال پوچھا تو ٹرمپ نے صرف اتنا کہا، ’’اس وقت صورتِ حال بہت بہترین ہے۔‘‘ اس 36 منٹ کی گفتگو میں ٹرمپ نے ’’گرینائٹ‘‘ کا لفظ 13 بار استعمال کیا، جبکہ ’’ایران‘‘ کا ذکر صرف 3 بار کیا۔

 

پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں کم از کم 18 امریکی فوجی ہلاک اور 750 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ یہ لڑائی ٹرمپ کے گلے کا طوق بنتی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایران اور لبنان میں بھی ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

 

امریکی ووٹرز جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید غصے میں ہیں اور اسی ماحول میں اہم مڈ ٹرم، یعنی وسط مدتی، انتخابات بھی قریب آ چکے ہیں۔

 

یہاں تک کہ ٹرمپ کے نعرے ’’میک امریکا گریٹ اگین‘‘ کے حامی بھی اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ وہ رہنما جس نے کسی نئی غیر ملکی جنگ کا حصہ نہ بننے کا وعدہ کیا تھا، اس نے بغیر کسی واضح حکمتِ عملی کے امریکا کو ایک اور دلدل میں کیوں دھکیل دیا۔

 

اس بارے میں بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو ولیم گالسلاں کا کہنا ہے، ’’کیا ٹوپی میں سے کوئی خرگوش نکلنے والا ہے؟ بالکل نہیں، میرا خیال ہے کہ ٹوپی اب بالکل خالی ہے۔‘‘

 

2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کی ریٹنگ میں مسلسل کمی آئی ہے، جبکہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اس کمی میں مزید تیزی دیکھی گئی۔

 

14 سے 17 اگست کے درمیان کیے گئے ’’رائٹرز/اپسوس‘‘ کے ایک سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت گر کر 33 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی موجودہ صدارتی مدت کی کم ترین سطح ہے۔ دیگر بڑے سروے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی مقبولیت کا گراف منفی زون میں جا چکا ہے۔

 

ٹرمپ کے نزدیک ایران کا معاملہ وینیزوئیلا کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری کی طرح ایک تیزی سے ملنے والی فتح ثابت ہونا تھا۔ اپریل میں عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد اے ایف پی کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں انہوں نے ’’مکمل اور حتمی فتح‘‘ کا دعویٰ کیا تھا۔

 

تاہم جیسے ہی جنگ بندی ختم ہوئی اور ایران نے جھکنے سے انکار کر دیا، ٹرمپ نے عسکری دباؤ کے بجائے معاشی دباؤ کی پالیسی اختیار کی، جبکہ جنگ کی وہ وجوہات بھی تبدیل ہوتی گئیں جن کا ابتدا میں ذکر کیا گیا تھا۔ حکومت کی تبدیلی، یعنی ریجیم چینج، سے توجہ ہٹ کر ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے تک محدود ہو گئی۔

 

بعد ازاں جب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا، جو ٹرمپ کی جنگ کے بعد ہی ایک اسٹریٹجک تنازع بن گیا، تو 80 سالہ صدر پہلے مایوس ہوئے اور پھر آہستہ آہستہ اس معاملے سے غیر متعلق دکھائی دینے لگے۔

 

جون کے مہینے میں ہی ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سست روی کا شکار مذاکرات کے بارے میں کہا تھا، ’’سچ کہوں تو، مجھے اب یہ باتیں بہت بورنگ لگنے لگی ہیں۔‘‘

 

امریکن یونیورسٹی کے بین الاقوامی امور کے ماہر گیریٹ مارٹن کا کہنا ہے کہ ’’ٹرمپ کی توجہ کسی ایک مسئلے پر دیر تک نہیں رہتی۔ انہیں یقین تھا کہ وہ وینیزویلا جیسی تیزی کا اعادہ کریں گے، لیکن اب وہ ایک ایسی صورتِ حال میں پھنس چکے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔‘‘

 

ایک طرف جہاں ٹرمپ 400 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والے بال روم کا ذکر کرنا پسند کرتے ہیں اور واشنگٹن کی عمارتوں پر اپنا نام کندہ کرا رہے ہیں، وہیں ووٹرز کی توجہ اب بھی ایران جنگ پر مرکوز ہے۔

 

امریکی میرین کور کے 20 سالہ سابق اہلکار جو پلینزلر کا کہنا ہے، ’’میرے خیال میں یہ جنگ بالکل غیر ضروری اور لاپرواہی پر مبنی تھی، اور حالات انتہائی خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘

 

انہوں نے مزید بتایا کہ عام امریکی صارفین پر اس کے اثرات شدید ترین پڑے ہیں، اور ورجینیا کا دیہی علاقہ، جو روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کا گڑھ مانا جاتا ہے، وہاں بھی شدید بے چینی اور ناخوشی پائی جاتی ہے۔

 

جنگ کے آغاز کے بعد سے پیٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ ایک سال قبل یہ اوسطاً 3.14 ڈالر فی گیلن تھیں، جس کے تباہ کن اثرات روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر پڑے ہیں۔

 

ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا امتحان نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں آ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ سے پیدا ہونے والی عوامی ناخوشی ریپبلکن پارٹی سے ایوانِ نمائندگان، یعنی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز، اور شاید سینیٹ کا کنٹرول بھی چھین سکتی ہے۔

 

ایسی صورتِ حال میں نہ صرف ٹرمپ کے قانون سازی کے منصوبے ٹھپ ہو سکتے ہیں بلکہ ان کے خلاف تیسری بار بھی امپیچمنٹ، یعنی مواخذے، کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

 

لیکن کیا ٹرمپ اس جنگ سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ چکے ہیں؟ 2029 میں ان کی دوسری مدت کے اختتام پر اپنے صدارتی ورثے اور تاریخ میں مقام کی تلاش کا مطلب یہ ہے کہ ایسا ہونا بعید از قیاس ہے۔

 

ولیم گالسلاں کا کہنا ہے، ’’میرا خیال ہے کہ انہیں تاریخ میں اپنے مقام کا احساس ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے وہ یہ سمجھتے ہوں کہ ان کے نام پر بننے والے مجسمے اور عمارتیں ان کی صدارتی کارکردگی کا متبادل بن جائیں گی، حالانکہ تاریخ میں یاد رکھے جانے والے صدور اپنی کارکردگی سے پہچانے جاتے ہیں۔‘‘

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں