Breaking News

افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں ، ایران کیساتھ تجارت جاری رہے گی،دفتر خارجہ

افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں ، ایران  کیساتھ تجارت جاری رہے گی،دفتر خارجہ
۱ منٹ پہلے

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کا اجلاس پاکستان میں ہوگا، جبکہ پاکستان ایک سال کے لیے تنظیم کی صدارت بھی سنبھالے گا۔ وزیراعظم پاکستان ایس سی او سربراہانِ مملکت کانفرنس میں شرکت کے لیے بشکیک جائیں گے۔

 

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانا تھا،افغانستان سے ریاستی سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہیں،امریکا کی پابندیوں کے باوجود ایران سے تجارت جاری رکھیں گے

 

دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ پاکستان آئندہ اجلاس میں ایس سی او سربراہانِ مملکت کانفرنس کی ایک سال کے لیے صدارت سنبھالے گا۔ پاکستان کی صدارت تنظیم کے آنے والے اجلاس میں باضابطہ طور پر شروع ہوگی۔

 

 

امریکا ایران کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششیں

 


امریکا ایران کشیدگی کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران پاکستان کی امن کاوشوں کا حصہ تھا، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانا تھا۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ فیلڈ مارشل کا دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کی حیثیت سے تھا۔

 

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور فوجی تعطل ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان نے برادر ممالک کے ساتھ مل کر مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے لیے مخلصانہ اور مربوط کوششیں کی ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 14 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جہاں بات چیت میں علاقائی کشیدگی کم کرنے، فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

 

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم نے ترک وزیر خارجہ سے 17، 19 اور 25 اگست کو 3 مرتبہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ بات چیت میں علاقائی صورتحال اور امن کے لیے مذاکرات و سفارت کاری کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

طاہر اندرابی نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے اپنے کویتی ہم منصب سے بھی رابطہ کیا ہے۔ نائب وزیراعظم اس وقت لندن کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے انٹرنیشنل میری ٹائم سیکیورٹی کے سربراہ سے ملاقات کی، جبکہ گزشتہ روز دولتِ مشترکہ کی سربراہ سے بھی ملاقات ہوئی۔

 

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، کیونکہ موجودہ علاقائی چیلنجز کا پائیدار حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

 

 

افغانستان سے ریاستی سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہیں

 


ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے افغان عبوری حکومت کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنا ہوں گے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہے۔

 

ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بات چیت کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم دہشت گردی کے مسئلے پر محض دعوے کافی نہیں، افغان حکام کو عملی اقدامات اور ان کے ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے۔

 

 

پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثے مکمل محفوظ ہیں


بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی جانب سے کرانہ ہلز پر حملے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

 

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی حکام کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ اسٹائل بیانات کی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 16 سے 18 ماہ بعد اس طرح کے بیانات دینے کی کیا وجہ ہے۔

 

طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے اسٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ اور سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

 

 

امریکا کی پابندیوں کے باوجود ایران سے تجارت جاری رکھیں گے

 


ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے باوجود پاکستان ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھے گا اور اسے مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر عائد یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔

 

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں اقتصادی معاملات سمیت دیگر امور بھی حل ہوں گے۔

 

 

ڈپلومیٹک انکلیو سے تجاوزات ہٹانے کا معاملہ


ڈپلومیٹک انکلیو سے متعلق ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے تمام سفارت خانوں کو رکاوٹیں اور تجاوزات ہٹانے کی ہدایت کی تھی، جس میں بھارتی سفارت خانہ بھی شامل تھا۔ تاہم بھارت کی جانب سے پاکستانی سفارت خانے کے باہر موجود ڈھانچے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہٹائے گئے۔

 

طاہر اندرابی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کے حوالے سے کہا کہ یہ دورہ پاکستان کی جاری ثالثی اور سفارتی کوششوں کا تسلسل تھا۔

 

 

آر ایس ایس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت قابل مذمت

 


آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے دورہ امریکا سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ وہ اس دورے پر تبصرہ نہیں کریں گے، تاہم آر ایس ایس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت قابل مذمت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موہن بھاگوت کے دورہ امریکا کے دوران اس معاملے کو بھی اٹھایا جائے گا۔

 

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے کوششیں جاری، پاکستان پُرامید

 


ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کوششیں جاری ہیں کیونکہ اس کی صورتحال سب کو متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان اس معاملے میں پُرامید ہے، تاہم حتمی فیصلہ متعلقہ فریقین نے کرنا ہے۔

 

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پاکستانی وفد سے متعلق تفصیلات جلد جاری کر دی جائیں گی۔

 

افغان طالبان کو پراکسی قرار دینے سے متعلق مؤقف

 


افغان طالبان کو پراکسی قرار دینے سے متعلق عاصم افتخار کے ایک انٹرویو کے حوالے سے سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ اگر افغان طالبان کسی پڑوسی ملک کے اشارے پر پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں تو انہیں پراکسی کہنا پڑے گا۔

 

ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے آبادکاری غیر قانونی اور بے بنیاد ہے۔

 

یوم آزادی 79 واں یا 80 واں؟


پاکستان کے یوم آزادی کی 79ویں یا 80ویں سالگرہ کے حوالے سے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ معاملہ قابلِ بحث ہے۔

 

انہوں نے وضاحت کی کہ اگر 1948 سے پہلے یوم آزادی کی تقریبات کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ 79 واں یوم آزادی بنتا ہے، جبکہ 1947 سے شمار کیا جائے تو 80 سال بنتے ہیں۔

 

ترجمان سے یہ سوال ایوانِ صدر کی جانب سے 79 واں جبکہ دفتر خارجہ کی جانب سے 80 واں یوم آزادی لکھے جانے کے حوالے سے کیا گیا تھا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں