نور فاطمہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی زیادتی کی تصدیق
گجرات کے علاقے جلالپور جٹاں میں 4 سالہ بچی نور فاطمہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی زیادتی کی تصدیق ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمسن بچی کے جسم پر سنگین نوعیت کی چوٹیں پائی گئیں، جبکہ نازک اعضاء پر بھی زخم موجود تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچی کی موت زیادہ خون بہہ جانے اور شدید خوف کے باعث ہوئی۔
لاش تقریباً 2 روز بعد پانی سے برآمد ہوئی، جس کے باعث موت کا درست وقت متعین نہیں کیا جاسکا۔
ڈی این اے سمیت دیگر اہم فرانزک شواہد کے نمونے محفوظ کرلیے گئے ہیں۔ ڈی این اے، کیمیکل ایگزامینر اور ہسٹوپیتھالوجی کے نمونے مزید تجزیے کے لیے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق موت کے اصل حقائق جاننے کے لیے پولیس تحقیقات اور فرانزک رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے۔
کیس میں نامزد ملزم جاں بحق ہونے والی 4 سالہ نور فاطمہ کا چچا زاد بھائی ہے۔ الزام ہے کہ اس نے بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا اور لاش برساتی نالے میں پھینک دی۔