World

دو مسلمان خواتین صحافیوں پر دہلی پولیس کا تشدد، تھپڑ مارے، لاٹھیاں برسائیں

دو مسلمان خواتین صحافیوں پر دہلی پولیس کا تشدد، تھپڑ مارے، لاٹھیاں برسائیں
۱۱ گھنٹے پہلے

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ساکیت تھانے میں دو مسلمان خواتین صحافیوں پر دہلی پولیس کی جانب سے مبینہ تشدد اور اسلاموفوبک رویے کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔

 

سوشل میڈیا پر واقعے سے متعلق ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد بھارت بھر کی صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

 

یہ واقعہ 3 ستمبر 2026 کو اس وقت پیش آیا جب یوٹیوب نیوز چینل "4 پی ایم نیوز نیٹ ورک" سے وابستہ فری لانس خواتین صحافی شاہین خان اور نفیسہ خان جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع میکس اسمارٹ سپر اسپیشلٹی ہسپتال میں ایک تقریب کی کوریج کے لیے گئی تھیں۔

 

اس تقریب میں بھارت کے وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی نو منتخب وزیراعلیٰ ریکھا گپتا موجود تھیں۔

 

شاہین خان کے مطابق وہ تقریب کی ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران دہلی حکومت سے متعلق ایک مبینہ سائیکل اسکیم گھوٹالے پر رپورٹنگ کر رہی تھیں اور وہاں موجود وزراء سے سوال پوچھنے کی کوشش کی، جس پر پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا، گھسیٹا اور حراست میں لے کر ساکیت پولیس سٹیشن منتقل کر دیا۔

 

شاہین خان نے الزام عائد کیا کہ تھانے میں ان سے نام پوچھا گیا اور جب انہوں نے اپنا خاندانی نام "خان" بتایا تو پولیس اہلکاروں کا رویہ تبدیل ہوگیا۔ ان کے مطابق مسلم شناخت ظاہر ہونے کے بعد ان کے ساتھ بدسلوکی میں اضافہ ہوا۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں صحافیوں کو تھانے کے ایک بند کمرے میں لے جا کر سادہ لباس میں موجود خاتون پولیس اہلکاروں اور دیگر عملے نے تھپڑ مارے، لاٹھیوں سے تشدد کیا اور جسمانی و ذہنی اذیت دی۔

 

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں شاہین خان کے جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات دکھائے گئے جبکہ ان کی ساتھی نفیسہ خان کو شدید تکلیف کی حالت میں تھانے سے باہر لاتے ہوئے دیکھا گیا۔

 

واقعے کے بعد دونوں صحافیوں نے انصاف اور ملوث اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ساکیت تھانے کے باہر احتجاج کیا، بعد ازاں انہیں طبی معائنے کے لیے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) منتقل کیا گیا۔

 

دہلی پولیس نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

 

ساؤتھ دہلی پولیس کے مطابق دونوں صحافیوں نے ہسپتال کے قریب وی وی آئی پی روٹ پر اپنا سکوٹر غلط پارک کیا تھا، جس سے سیکیورٹی روٹ متاثر ہو رہا تھا۔ پولیس کے مطابق بار بار درخواست کے باوجود اسکوٹر نہ ہٹانے پر انہیں پوچھ گچھ کے لیے تھانے منتقل کیا گیا اور تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

 

بھارتی صحافتی تنظیموں، جن میں پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمن پریس کور اور دہلی یونین آف جرنلسٹس شامل ہیں، نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائے، ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

 

اپوزیشن جماعتوں نے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے صحافت کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں