Breaking News

پی پی کی ’دوغلی پالیسی‘ کی وضاحت کروں گا، شعبۂ صحت میں کرپشن کا نیٹ ورک ہے: خواجہ آصف

پی پی کی ’دوغلی پالیسی‘ کی وضاحت کروں گا، شعبۂ صحت میں کرپشن کا نیٹ ورک ہے: خواجہ آصف
۱ منٹ پہلے

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جب پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات ہوتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے یا اس معاملے پر نرم گوشہ ظاہر کرتی ہے، لیکن جب 4 سے زیادہ صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کی بات کی جائے تو سندھودیش کا نعرہ سامنے آجاتا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ پمز میں سامنے آنے والے معاملات صحت کے شعبے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں اور صحت کے شعبے میں کرپشن کا ایک پورا نیٹ ورک موجود ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے۔

 

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کی اس ’دوغلی پالیسی‘ کے پیچھے کچھ اور دیکھ رہے ہیں، تاہم اس کی وضاحت وقت آنے پر کریں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم سب پہلے اور آخر میں پاکستانی ہیں۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی آئین کا طے شدہ اصول ہے، جسے 18ویں ترمیم کے ذریعے آئینی تحفظ دیا گیا، تاہم اس اصول پر عمل نہیں کیا گیا۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے آئینی اصول کو دیانت داری کے ساتھ نافذ کیا جائے تاکہ جمہوریت حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک پہنچ سکے اور عوام اس کے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ نظام میں پرانے اور غیر ضروری اختیارات کا ارتکاز ہوچکا ہے، جسے دیانت داری کے ساتھ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبوں یا انتظامی یونٹس کو کوئی بھی نام دیا جاسکتا ہے، اصل مقصد اختیارات کی تقسیم اور عوام تک ان کی منتقلی ہونا چاہیے۔

 

وفاقی وزیر دفاع نے تجویز دی کہ ملک میں موجود 36 ڈویژنز کو انتظامی بنیاد پر استعمال کیا جاسکتا ہے یا پھر جغرافیائی انتظام کے لیے کوئی دوسرا نظام وضع کیا جائے۔

 

خواجہ آصف نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے۔

 

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پمز میں سامنے آنے والے معاملات کو صحت کے شعبے کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں کرپشن کا ایک پورا نیٹ ورک موجود ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ جس شعبے کا نصب العین انسانی جانیں بچانا ہونا چاہیے، وہاں بعض عناصر نے اپنی جیبیں بھرنے اور کرپشن کو مقصد بنا لیا ہے، جو حکومتوں، عوام اور متعلقہ اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

 

سیالکوٹ میں ورکرز اور ان کے خاندانوں کے لیے طبی سہولت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پمز میں جو کچھ ہوا اس پر وزیراعظم نے بھی نوٹس لیا ہے اور امید ہے کہ اس معاملے کے کچھ نتائج سامنے آئیں گے، تاہم صورتحال کو درست کرنا ضروری ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں کرپشن کا ایک نیکسس آج بھی قائم ہے اور اسے توڑنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ پنجاب کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 2 سے ڈھائی سال کے دوران صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے پر توجہ دی ہے اور کئی شعبوں میں بہتری آئی ہے، تاہم ملک کے دیگر حصوں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ وہ اس وقت ایک اسپتال میں کھڑے ہیں، اس لیے صحت کے شعبے کے مسائل کی بات کر رہے ہیں، لیکن پمز کا معاملہ صرف ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ یہ حکومتوں، عوام اور ان تمام افراد کے لیے لمحہ فکریہ ہے جن کے پاس اختیارات اور ذمہ داریاں ہیں۔

 

انہوں نے صحت کے اداروں کی نگرانی کے نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض جگہ ریگولیٹری اداروں میں ایسے لوگ شامل رہے ہیں جو خود میڈیکل کالجز یا اسپتالوں کے مالکان تھے۔ ان کے بقول اگر نگرانی کرنے والے ہی متعلقہ کاروبار کے مفادات سے جڑے ہوں تو مؤثر نگرانی کیسے ممکن ہوگی۔

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ کئی برس سے بعض اسپتالوں کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے معاملات بھی سوالات کی زد میں ہیں اور بعض بڑے اسپتالوں کے پاس لائسنس موجود ہیں، لیکن صحت کی سہولت فراہم کرنے کے بجائے مال کمانا ترجیح بنتی جا رہی ہے۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ کرپشن ایک ناسور ہے جو پورے ملک میں پھیل چکا ہے اور حکومتوں کا فرض ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے پنجاب میں منظم انداز میں کرپشن کے خلاف اقدامات کو بھی سراہا اور کہا کہ پہلے معلومات اور اعداد و شمار جمع کیے جائیں اور پھر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں