مری، مسلح افراد نے پسند کی شادی کرنے والے لڑکے کی 2 بہنیں اغوا کر لیں
مری میں مسلح افراد نے پسند کی شادی کرنے والے لڑکے کی 2 بہنیں اغوا کر لیں ۔
مری کے نواحی علاقے کاکڑائی کہوٹی میں کشمیر سے آنے والے درجنوں مسلح افراد نے مبینہ طور پر مقامی شخص شکیل عباسی کے گھر پر رات کے وقت دھاوا بول دیا، ماں کو رسیوں سے باندھ کر اس کی 2 بیٹیوں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
معلوم ہوا ہے کہ مغوی لڑکیوں کے بھائی نے کشمیر کی ایک لڑکی سے عدالت میں شادی کی تھی، جس کی پاداش میں لڑکے کی بہنوں کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔
مری پولیس نے لڑکیوں کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے مغویوں کی بازیابی کے لیے پولیس نفری کشمیر روانہ کر دی، جبکہ علاقے سے منتخب نمائندے بلال یامین ستی اور کوہسار پوٹھوہار اتحاد کے رہنماؤں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے لڑکیوں کی بازیابی کے لیے انتظامیہ کو 24 گھنٹوں کا وقت دیا ہے، بصورت دیگر شدید احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔
25 دن قبل لڑکے کی عدالت میں شادی
تقریباً 25 دن قبل مری کی یو سی گہل کے گاؤں کاکڑائی کہوٹی کے رہائشی شکیل عباسی کے بیٹے عاطف نے کشمیر کی سید فیملی کی ایک لڑکی سے عدالت میں شادی کی تھی، جس کے بعد سے دونوں لڑکا اور لڑکی غائب ہیں۔
درجنوں مسلح افراد کا دھاوا
اس شادی کے 24 روز بعد رات کو تقریباً 1:30 بجے مبینہ طور پر 25 سے 30 مسلح افراد شکیل عباسی کے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے لڑکے کی والدہ کو رسیوں سے باندھ دیا، جبکہ اس کی 2 بہنوں، جن کی عمریں 15 اور 18 سال ہیں، کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس کا نوٹس، مقدمہ درجہ
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مری ڈاکٹر محمد رضا تنویر نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو کم سن بچیوں کی بحفاظت بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کے احکامات جاری کر دیے۔
دستیاب پولیس رپورٹ کے مطابق واقعے پر تھانہ نیو مری پتریاٹہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ رپورٹ میں دفعہ 365-B کا اندراج بھی موجود ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق واقعے کی رپورٹ 4 ستمبر 2026 کو درج کی گئی۔
ڈی پی او ڈاکٹر محمد رضا تنویر نے ایس ایچ او تھانہ نیو مری پتریاٹہ سعید احمد کیانی کو ہدایات جاری کی ہیں کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرکے بچیوں کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے اور تفتیش کو ہر ممکن پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھایا جائے۔
مری پولیس کشمیر روانہ
ذرائع کے مطابق ایس ایچ او سعید احمد کیانی پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ملزمان کی گرفتاری اور بچیوں کی بازیابی کے لیے کشمیر روانہ ہوگئے ہیں۔
ڈی پی او نے اپنے پیغام میں کہا کہ پولیس نے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان تک پہنچنے کے لیے ممکنہ مقامات پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ معصوم بچیوں کی بازیابی اولین ترجیح ہے اور مری پولیس کی جانب سے واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ کم سن بچیوں کو جلد از جلد بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
سیاسی و سماجی رہنماؤں کی 24 گھنٹے کی مہلت
دوسری جانب رکن پنجاب اسمبلی بلال یامین ستی نے اپنے بیان میں کہا کہ 2 بیٹیوں کو اسلحے کے زور پر اغوا کیے جانے کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او سے فوری رابطہ کیا اور بچیوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کے ساتھ ملوث ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
بلال یامین ستی نے کہا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں، بیٹیاں قوم کی سانجھی امانت ہوتی ہیں۔
کوہسار پوٹھوہار اتحاد کے رہنما آصف شفیق ستی نے اپنے ویڈیو پیغام میں انتظامیہ کو 24 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ بچیوں کو بازیاب کرایا جائے، بصورت دیگر احتجاج سمیت ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بچیوں کو اس طرح اسلحے کے زور پر اغوا کرنا ناقابلِ قبول ہے، ہم اس معاملے میں خاموش نہیں رہیں گے اور ان کی بازیابی کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔