World

سنگاپور کے وزیرِ اعظم کی تنخواہ 79 کروڑ پاکستانی روپے

سنگاپور کے وزیرِ اعظم کی تنخواہ 79 کروڑ پاکستانی روپے
۲۳ گھنٹے پہلے

سنگاپور نے اپنے سیاسی رہنماؤں کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے کا اعلان کردیا ہے، جس کے بعد وزیرِاعظم لارنس وونگ کی سالانہ بینچ مارک تنخواہ 60 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ تقریباً 79 کروڑ پاکستانی روپے ہوگئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اہل اور باصلاحیت افراد کو سیاست میں آنے کی ترغیب دینا اور ملک میں بہتر حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔

 

وزیرِاعظم لارنس وونگ نے منگل کو پارلیمنٹ میں بتایا کہ ان کی سالانہ بینچ مارک تنخواہ 22 لاکھ سنگاپور ڈالر سے بڑھا کر 36 لاکھ سنگاپور ڈالر کردی جائے گی، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 79 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس اضافے کے بعد وونگ دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے حکومتی سربراہوں میں بدستور نمایاں رہیں گے۔

 

نئے نظام کے تحت نائب وزیرِاعظم کی بینچ مارک تنخواہ بھی 18 لاکھ 70 ہزار سنگاپور ڈالر سے بڑھ کر 30 لاکھ 60 ہزار ڈالر ہوجائے گی، جو تقریباً 67 کروڑ 14 لاکھ پاکستانی روپے بنتی ہے۔ کابینہ کے وزرا کو ان کے عہدے، تجربے اور ذمہ داریوں کے حساب سے سالانہ 18 لاکھ سے 28 لاکھ 80 ہزار سنگاپور ڈالر تک معاوضہ ملے گا، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 39 کروڑ 49 لاکھ سے 63 کروڑ 19 لاکھ روپے کے درمیان بنتا ہے۔

 

تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار فوری طور پر ہر وزیر کی اصل تنخواہ نہیں بن جائیں گے۔ موجودہ سیاسی عہدیداروں کو 15 اکتوبر سے حالات اور کارکردگی کے مطابق زیادہ سے زیادہ 9 فیصد تک ایک مرتبہ اضافی رقم دی جائے گی۔ اس کے بعد تنخواہوں میں تبدیلی کا انحصار متعلقہ وزیر کی کارکردگی اور ذمہ داریوں پر ہوگا۔

 

لارنس وونگ نے اپنی تنخواہ میں ہونے والے اضافے سے ملنے والی ’پوری اضافی رقم‘ اپنے عہدے کی مدت کے دوران فلاحی اور دیگر مناسب مقاصد کے لیے عطیہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

 

وزیرِاعظم نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ سیاسی رہنماؤں کی تنخواہوں کا معاملہ سنگاپور میں حساس موضوع ہے، کیونکہ یہ رقم عام شہریوں کی آمدنی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا ملک مستقبل میں بھی ایسے قابل افراد کو سیاست میں لاسکتا ہے جو حکومت چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں