عمران خان کی ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو ہوتی ہے،اسلئے ملاقات نہیں کرائی جا سکتی: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو ملاقات کی اجازت نہ دیے جانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس دوران اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے دوران سیاسی گفتگو کی جاتی ہے، اسی وجہ سے وکیل کی ملاقات نہیں کرائی جا سکتی۔
سماعت کے دوران سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کیے بغیر وہ مقدمے کے میرٹس پر مؤثر دلائل نہیں دے سکتے، کیونکہ کیس میں اپنے مؤکل سے قانونی ہدایات لینا ضروری ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اگر اڈیالہ جیل حکام کو عدالت کے حکم پر کسی قسم کا اعتراض تھا تو انہیں اس حکم کے خلاف اپیل دائر کرنی چاہیے تھی، نہ کہ ملاقات کرانے سے انکار کیا جاتا۔
اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ اگر سلمان اکرم راجہ یہ یقین دہانی کرا دیں کہ ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو نہیں ہوگی تو کیا ایسی صورت میں انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
عدالت نے ریاستی حکام کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر اس سوال کا واضح جواب دیں۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس مقدمے کے مرکزی فریق ہیں، اس لیے انہیں اپنے وکیل کو مقدمے سے متعلق ضروری ہدایات دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے بھی سوال اٹھایا کہ جب سلمان اکرم راجہ بانی پی ٹی آئی کی قانونی نمائندگی کر رہے ہیں تو انہیں اپنے مؤکل سے کیس کے حوالے سے ہدایات لینے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟
دورانِ سماعت پاکستان تحریک انصاف کے مؤقف سے متعلق بھی عدالت میں سوال کیا گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی جانب سے ایک معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ بیرسٹر گوہر اس وقت شہر میں موجود نہیں، تاہم وہ آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔
اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں اور معاملہ براہِ راست بانی پی ٹی آئی سے متعلق ہے۔
عدالت نے فریقین کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر مقدمے کے میرٹس پر اپنے دلائل پیش کریں، جس کے بعد کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔
اسی دوران بانی پی ٹی آئی سے متعلق اڈیالہ جیل کی سہولیات کے معاملے پر یہ پیش رفت بھی سامنے آئی کہ اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں نے عمران خان جیسی سہولیات نہ ملنے پر فیڈرل آئینی عدالت سے رجوع کیا ہے۔