انگلینڈ،غلط فہمی کے باعث پاکستانی انڈر19 کرکٹ ٹیم مہاجرین مخالف احتجاج کا نشانہ بن گئی
برطانیہ کے شہر پورٹسمتھ میں پاکستان کی انڈر 19 قومی کرکٹ ٹیم غلط فہمی کے باعث مہاجرین مخالف احتجاج کا نشانہ بن گئی، جب مقامی افراد نے ہوٹل پہنچنے والی ٹیم کو مبینہ طور پر تارکین وطن سمجھ لیا۔
بعد ازاں پولیس اور ہوٹل انتظامیہ کی وضاحت پر مظاہرین منتشر ہوگئے، جبکہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستانی کھلاڑیوں کی خیریت دریافت کرتے ہوئے دورے کے باقی حصے کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ شروع کردیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق منگل کی شام پورٹسمتھ کے علاقے کوشام میں واقع میریٹ ہوٹل کے باہر تقریباً 30 سے 40 افراد جمع ہوگئے تھے۔ یہ اجتماع سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ان غلط اطلاعات کے بعد ہوا کہ ایک بس کے ذریعے مہاجرین کے ایک گروپ کو ہوٹل لایا گیا ہے۔
ریفارم پارٹی سے تعلق رکھنے والے کاؤنٹی کونسلر جارج میڈگوک نے فیس بک پر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ہوٹل کے باہر جمع نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل انتظامیہ نے انہیں ثبوت دکھایا ہے کہ بس میں آنے والے افراد دراصل دورے پر موجود پاکستان انڈر 19 قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ہیں۔
ہیمپشائر پولیس نے بھی تصدیق کی کہ شام ساڑھے 6 بجے سے کچھ پہلے ہوٹل کے باہر لوگوں کے جمع ہونے کی اطلاع پر اہلکار موقع پر پہنچے۔
پولیس ترجمان کے مطابق اہلکاروں نے ان افراد سے بات کی جو علاقے میں نظر آنے والی ایک کوچ سے متعلق خدشات کا اظہار کر رہے تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے موقع پر موجود افراد کو آگاہ کیا کہ ان کے خدشات درست نہیں ہیں۔ پولیس کے مطابق کسی قسم کے جرم کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
حکام کے مطابق تقریباً 30 افراد پر مشتمل ہجوم رات 9 بجے سے کچھ دیر پہلے وہاں سے چلا گیا۔
جارج میڈگوک نے اپنے فیس بک پیغام میں بتایا کہ انہوں نے ہوٹل کے منیجر سے ملاقات کی، جس پر انتظامیہ نے واضح کیا کہ وہاں پاکستان کی کرکٹ ٹیم قیام پذیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے کوچ نے بھی ذاتی طور پر ان سے ملاقات کی اور انہیں متعلقہ ثبوت دکھائے، جبکہ ہوٹل انتظامیہ بھی اس حوالے سے ضروری تصدیق فراہم کرنے پر تیار تھی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جارج میڈگوک نے کہا کہ کسی شخص نے آن لائن ایک کوچ سے اترنے والے ایسے افراد کی تصویر دیکھی جو بظاہر غیر ملکی دکھائی دے رہے تھے اور پھر یہ تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کردی گئی، جہاں سے پوری غلط فہمی نے جنم لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ حقیقت یا تصدیق شدہ معلومات کے بجائے محض قیاس آرائی پر مبنی تھا اور اس معاملے میں لوگوں سے ایک بہت بڑی غلطی ہوئی۔
جارج میڈگوک نے اپنے فیس بک پیغام پر ہونے والی تنقید اور تبصروں کے جواب میں اس تاثر کی تردید کی کہ پاکستانی کرکٹرز کی آمد پر سامنے آنے والا ردعمل نسل پرستانہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ بظاہر ایک شخص نے ایک مفروضہ قائم کیا اور باقی لوگوں نے بھی اسی مفروضے کو درست سمجھ لیا۔
ان کے مطابق یہ واقعہ شہر کی اچھی تصویر پیش نہیں کرتا اور وہ نہیں چاہتے کہ پورٹسمتھ کو اس نوعیت کے واقعات کے حوالے سے جانا جائے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اس سے صرف 2 روز قبل پورٹسمتھ میں سینکڑوں مظاہرین نے سڑکیں بلاک کردی تھیں۔ یہ احتجاج اس واقعے کے بعد ہوا تھا جب تقریباً 120 مہاجرین کو لے جانے والی ایک کشتی کو ساحل پر لایا گیا تھا۔
پورٹسمتھ نارتھ سے لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ امانڈا مارٹن نے پاکستانی انڈر 19 ٹیم کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے کہ غلط معلومات کی بنیاد پر شہر کا دورہ کرنے والے نوجوان کرکٹرز کو غلط طور پر سیاسی پناہ کے متلاشی افراد سمجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
امانڈا مارٹن نے کہا کہ یہ بھی افسوسناک ہے کہ ہوٹل میں کام کرنے والے عملے کو بھی اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اتوار کو پورٹسمتھ پہنچنے والے افراد کو مزید کارروائی کے لیے ہیمپشائر سے باہر منتقل کردیا گیا تھا۔
لیبر رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ امیگریشن سے متعلق جائز بحث ضرور ہونی چاہیے، لیکن ایسی بحث حقائق پر مبنی ہونی چاہیے، غلط معلومات اور افواہوں پر نہیں۔
رپورٹس کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستانی انڈر 19 ٹیم کے کھلاڑیوں کی خیریت معلوم کی ہے اور ان کے دورے کے باقی حصے کے لیے سکیورٹی انتظامات کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب میریٹ ہوٹل پورٹسمتھ نے واقعے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔