Breaking News

احتجاج ہمیشہ اسلام آباد کی طرف ہی کیوں آتے ہیں؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

احتجاج ہمیشہ اسلام آباد کی طرف ہی کیوں آتے ہیں؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
۱۰ گھنٹے پہلے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ بیانِ حلفی جمع کرائیں کہ ممکنہ احتجاج کے دوران سرکاری مشینری سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

 

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

 

سماعت کے دوران خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت کو دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ درخواست اس کے دائرہ سماعت میں آتی بھی ہے یا نہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک محدود ہے، جبکہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے افسران کو ہدایات دینا عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

 

شاہ فیصل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر عدالت پورے پاکستان کے افسران کو طلب کرے گی تو یہ دوسرے صوبوں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔

 

خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست گزار کے متاثرہ فریق ہونے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ ابھی شروع ہی نہیں ہوا تو درخواست گزار متاثرہ فریق کیسے بن گیا؟

 

سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے مشاورت کی ہے اور کیا وہ صوبائی حکومت کے نمائندے ہیں؟ شاہ فیصل نے جواب دیا کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندے ہیں۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی دو ذمہ داریاں ہیں، ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی اور دوسری سیاسی جماعت کے رکن کی۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر وہ پارٹی کے رکن نہ ہوتے تو وزیراعلیٰ کیسے بنتے۔

 

عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ کو ریاست سے زیادہ مخلص ہونا چاہیے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وزیراعلیٰ نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا جو آئین، قانون یا ریاست کے خلاف ہو۔

 

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ احتجاج ہمیشہ اسلام آباد کی طرف ہی کیوں آتے ہیں؟ خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری نے اسے سیاسی سرگرمی قرار دیا۔

 

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی بھی سیاسی سرگرمی ہے؟

 

ایڈووکیٹ جنرل نے احتجاج سے قبل کنٹینرز لگانے پر بھی اعتراض کیا اور وفاقی حکومت کے خلاف نوٹس لینے کی استدعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں کہ خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر بھی کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں۔

 

عدالت نے خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سے پیر تک بیانِ حلفی طلب کرلیا اور قرار دیا کہ ان دونوں افسران کے علاوہ دیگر افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔

 

عدالت نے معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی طلب کیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ 2022 اور 2024 کے دوران عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات کی بھی تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی تھی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں