کوئٹہ: 6 سالہ علی شاہ کے قتل کا معمہ حل، قاتل سگی چچی نکلی
کوئٹہ کے علاقے بوری بند میں 6 سالہ بچے علی شاہ کے قتل کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے مقتول کی سگی چچی کو گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمہ نے دورانِ تفتیش گھریلو ناچاقی، حسد اور ذاتی عناد کی بنیاد پر بچے کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
بچے کی لاش گھر کے قریب بوری سے ملی
پولیس کے مطابق 6 سالہ علی شاہ، جو کوئٹہ پولیس کے ملازم باچا خان کا بیٹا تھا، 20 اگست کو مدرسے سے واپسی کے بعد لاپتہ ہوگیا تھا۔
اہلخانہ نے بچے کی تلاش جاری رکھی، تاہم دو روز بعد 22 اگست کی صبح گھر کے مرکزی دروازے کے قریب ایک مشکوک بوری ملی، جس میں علی شاہ کی لاش موجود تھی۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سوشل میڈیا پر اغوا برائے تاوان سمیت مختلف وجوہات سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں۔
سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ نے تحقیقات کیں
واقعے کی سنگینی کے پیش نظر کیس کی تحقیقات سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ (SCIW) کے سپرد کی گئیں۔
تفتیشی ٹیم نے گھر کے افراد کے بیانات، کال ڈیٹا ریکارڈز (CDR)، جیو فینسنگ اور دیگر تکنیکی شواہد کی مدد سے تحقیقات آگے بڑھائیں۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران شک کا دائرہ گھر کے اندر موجود مقتول کی چچی تک پہنچا، جسے حراست میں لے کر تفتیش کی گئی۔
پولیس کے مطابق ذاتی رنجش قتل کی وجہ بنی
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ نے بتایا کہ گھریلو اختلافات، حسد اور ذاتی عناد کے باعث اس نے یہ قدم اٹھایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے بچے کو قتل کرنے کے بعد لاش کچھ وقت کے لیے گھر میں چھپائے رکھی، بعد ازاں اسے بوری میں بند کرکے گھر کے باہر رکھ دیا تاکہ واقعے کو کسی اور کارروائی کا رنگ دیا جاسکے۔
مقدمہ درج، فارنزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں
پولیس کے مطابق مقتول کے والد کی مدعیت میں تھانہ صدر میں اغوا اور قتل کی دفعات 302 اور 364-A کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے، جبکہ کیس کو مضبوط بنانے کے لیے فارنزک اور دیگر شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔