مینز ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی، پاکستان کا بھارت جانے سے انکار
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے مینز ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی 2026 کے لیے بھارت جانے سے انکار کرتے ہوئے ایشین ہاکی فیڈریشن سے درخواست کی ہے کہ ٹورنامنٹ یا کم از کم پاکستان کے تمام میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کیے جائیں۔
پی ایچ ایف کے مطابق یہ درخواست پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود حساس دوطرفہ صورتحال کے پیش نظر کی گئی ہے۔ فیڈریشن نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستانی کھلاڑیوں اور عہدیداروں کے لیے محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول کی فراہمی ضروری ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ایشین ہاکی فیڈریشن کو بھیجے گئے خط میں کہا کہ غیر جانبدار مقام پر مقابلوں کے انعقاد سے پاکستان کی ٹورنامنٹ میں مکمل شرکت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
بھارت سمیت تمام ٹیموں کے خلاف کھیلنے کے لیے تیار
پی ایچ ایف نے واضح کیا ہے کہ وہ ایشین چیمپیئنز ٹرافی اور دیگر عالمی ہاکی مقابلوں میں شرکت کے لیے پرعزم ہے اور بھارت سمیت تمام شریک ٹیموں کے خلاف کھیلنے کے لیے تیار ہے۔
فیڈریشن نے امید ظاہر کی کہ ایشین ہاکی فیڈریشن موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے غیر جانبدار مقام کی درخواست پر غور کرے گی۔
ایشین چیمپیئنز ٹرافی 2026 کا شیڈول
مینز ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی 2026 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک بھارتی ریاست پنجاب کے شہروں جالندھر اور موہالی میں کھیلی جائے گی۔
ٹورنامنٹ میں 6 ٹیمیں حصہ لیں گی جن میں پاکستان، بھارت، چین، جاپان، ملائیشیا اور جنوبی کوریا شامل ہیں، جبکہ عمان اور بنگلہ دیش کو ریزرو ٹیموں کے طور پر رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ دفاعی چیمپیئن بھارت ایشین چیمپیئنز ٹرافی کی تاریخ کی کامیاب ترین ٹیم ہے اور اب تک 5 مرتبہ یہ ٹائٹل اپنے نام کرچکا ہے۔
ہاکی انڈیا نے درخواست مسترد کر دی
ہاکی انڈیا نے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کی ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کے میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
ہاکی انڈیا کے سیکریٹری بھولا ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کے وینیو میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور اگر پاکستان کو ٹورنامنٹ میں شرکت کرنی ہے تو اسے بھارت آنا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے نیوٹرل وینیو پر میچز کرانے کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی، جبکہ ٹورنامنٹ طے شدہ مقام اور شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوگا۔
بھولا ناتھ سنگھ کے مطابق بنگلہ دیش اور عمان کو ریزرو ٹیموں کے طور پر شامل کیا گیا ہے، اگر پاکستان ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کرتا تو کسی متبادل ٹیم کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود حساس صورتحال کے پیش نظر ایشین ہاکی فیڈریشن سے درخواست کی تھی کہ ٹورنامنٹ یا کم از کم پاکستان کے تمام میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کیے جائیں۔