ٹرمپ کا سی این این،ایم ایس ناؤاورپولیٹیکو پر پابندی کااعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تین بڑے میڈیا اداروں سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کو فوری طور پر وائٹ ہاؤس سے بین کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ یہ میڈیا ادارے ان کی انتظامیہ سے متعلق مسلسل غلط خبریں اور من گھڑت کہانیاں نشر یا شائع کرتے ہیں۔ تاہم امریکی صدر نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی مخصوص مثال پیش نہیں کی۔
ٹرمپ نے بعد میں اس اقدام کو ایک "سادہ پابندی" قرار دیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ اس فیصلے پر عملی طور پر کیسے عملدرآمد کیا جائے گا اور آیا متعلقہ اداروں کے صحافیوں کو واقعی وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روکا جائے گا یا نہیں۔
اعلان کے کچھ دیر بعد بھی سی این این اور پولیٹیکو کے رپورٹرز وائٹ ہاؤس میں موجود تھے۔
میڈیا اداروں کا ردعمل
سی این این نے ممکنہ پابندی کو امریکی آئین میں دی گئی آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کسی میڈیا ادارے کی رپورٹنگ روکنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
پولیٹیکو نے بھی اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
دوسری جانب ایم ایس ناؤ، جو پہلے ایم ایس این بی سی کے نام سے جانا جاتا تھا، نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کا مؤقف
وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر جیکی ہینرچ نے کہا کہ صحافیوں کو ان کے کام کی بنیاد پر نشانہ بنانا قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف صحافیوں کے حقوق تک محدود نہیں بلکہ امریکی عوام کے اس حق سے بھی متعلق ہے کہ انہیں صدر اور حکومت کی سرگرمیوں، پالیسیوں اور فیصلوں کے بارے میں آزاد معلومات حاصل ہوں۔
اے پی اور وائٹ ہاؤس تنازع کا حوالہ
اس سے قبل فروری 2025 میں بھی وائٹ ہاؤس اور میڈیا ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے درمیان تنازع سامنے آیا تھا۔
اس وقت وائٹ ہاؤس نے اے پی کے رپورٹرز کو بعض تقریبات میں داخلے سے روک دیا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب اے پی نے سابق نام "گلف آف میکسیکو" تبدیل کرکے "گلف آف امریکہ" لکھنے کے فیصلے پر عمل نہیں کیا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز کے مطابق ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں 2018 میں سی این این کے صحافی جم ایکوسٹا کی وائٹ ہاؤس پریس کریڈینشل بھی منسوخ کی گئی تھی۔
تاہم اس وقت کا اقدام پورے ادارے کے خلاف نہیں بلکہ ایک مخصوص صحافی کی وائٹ ہاؤس رسائی سے متعلق تھا۔