ایران جنگ جلد ختم ہو گی، ٹرمپ؛ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی، جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
اوول آفس میں صحتِ عامہ سے متعلق تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ لوگ نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازع جلد اختتام پذیر ہوگا اور جنگ کے خاتمے کے بعد پیٹرول کی قیمتیں دوبارہ پہلے کی سطح پر آ سکتی ہیں یا اس سے بھی کم ہوسکتی ہیں۔
ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف بی ٹو بمبار طیاروں کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے فوجی کارروائی ضروری تھی۔
امریکی صدر کے مطابق ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں تھا، کیونکہ اگر امریکا نے کارروائی نہ کی ہوتی تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی جنگ کے خاتمے اور توانائی کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اسی نوعیت کے بیانات دے چکے ہیں۔
روس اور ایران پر پابندیوں کے نئے قانون پر دستخط
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور ایران سے متعلق نئے پابندیوں کے قانون پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت روس پر عائد پابندیوں کا دائرہ وسیع جبکہ ایران سے متعلق پابندیوں میں مزید توسیع کی گئی ہے۔
نئے قانون کے تحت روسی حکام، مالیاتی اداروں اور مختلف شعبوں سے وابستہ اداروں پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔ اس میں روس کے توانائی اور تجارتی شعبوں سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔
قانون کے تحت امریکی صدر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ روسی تیل اور قدرتی گیس کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرسکتے ہیں۔
امریکی ایوانِ نمائندگان نے رواں ہفتے اس پابندیوں سے متعلق بل منظور کیا تھا، جس کے بعد اسے صدر کے دستخط کے لیے بھیجا گیا۔
اسی قانون کے ذریعے 1996 کے ایران سینکشنز ایکٹ میں بھی پانچ سال کی توسیع کردی گئی ہے، جس کے تحت ایران پر پابندیاں برقرار رکھنے کا امریکی اختیار جاری رہے گا۔
امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان سکیورٹی معاہدہ
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان سکیورٹی معاہدہ طے پانے کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے تحت امریکا کو گرین لینڈ کے دفاعی معاملات میں مستقل کردار حاصل ہوگا۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا گرین لینڈ کی سکیورٹی کے لیے ضروری اقدامات کرسکے گا اور ایسے ممالک کو روکنے کی کوشش کی جائے گی جو امریکی حکام کے مطابق خطے میں فوجی اڈے قائم کرنے، عسکری موجودگی بڑھانے یا حساس سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا منصوبہ بھی رکھتا ہے۔
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن کے دفتر کے مطابق تینوں فریق آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر معاہدے پر دستخط کریں گے، تاہم اس کے نفاذ سے قبل متعلقہ پارلیمانی مراحل مکمل کرنا ہوں گے۔
فریڈرکسن نے کہا کہ یہ معاہدہ آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس کے خطے میں مشترکہ سکیورٹی کو مضبوط کرے گا، جبکہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو تسلیم کرتا ہے۔
گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی برقرار
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق معاہدے کے بعد گرین لینڈ کی خودمختاری ڈنمارک کے پاس برقرار رہے گی، تاہم امریکا کو جزیرے میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھانے کا موقع ملے گا۔
گرین لینڈ میں پہلے ہی امریکا کا پِٹوفک اسپیس بیس موجود ہے، جو میزائل وارننگ، دفاعی نگرانی اور خلائی آپریشنز کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔