Business

شہباز شریف کے دونوں ادوار میں ملکی تاریخ کی تیز ترین رفتار سے قرضہ لیا گیا

شہباز شریف کے دونوں ادوار میں ملکی تاریخ کی تیز ترین رفتار سے قرضہ لیا گیا
۷ گھنٹے پہلے

وزیراعظم شہباز شریف کے دونوں ادوارِ حکومت کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں پونے چار سال کے عرصے میں 37 ہزار 307 ارب روپے کا تاریخی اضافہ ہوا ہے، جبکہ ان کے دور میں ملکی تاریخ کی تیز ترین رفتار سے قرضہ لیا گیا۔

 

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کی بنیاد پر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق شہباز شریف کے دور کے مقابلے میں پی ٹی آئی حکومت کے تقریباً پونے چار سال کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18 ہزار 327 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔

 

دستاویزات کے مطابق شہباز شریف کے پہلے اور موجودہ دورِ حکومت کے پونے چار سال کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں پی ٹی آئی حکومت کے تقریباً پونے چار سال کے مقابلے میں 104 فیصد زیادہ اضافہ ہوا۔

 

اعداد و شمار کے مطابق بطور وزیراعظم شہباز شریف کے پہلے دورِ حکومت، اپریل 2022 سے جولائی 2023 کے 16 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18 ہزار 764 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا، جبکہ موجودہ حکومت کے ابتدائی 29 ماہ، مارچ 2024 سے جولائی 2026 کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18 ہزار 543 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 

یوں شہباز شریف کے پہلے اور موجودہ دونوں ادوار کو ملا کر وفاقی حکومت کے قرضوں میں مجموعی اضافہ 37 ہزار 307 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

 

 

مقامی اور بیرونی قرضہ 

 

 

وفاقی قرضوں میں ہونے والے اس اضافے میں مقامی قرضوں کا حصہ نمایاں ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مقامی بینکوں سے لیا جانے والا قرض بڑھ کر 59.5 ٹریلین روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔

 

دوسری جانب بیرونی قرضہ بھی 24.2 ٹریلین روپے تک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں بین الاقوامی اداروں، جن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک شامل ہیں، اور اتحادی ممالک سے حاصل کیا جانے والا قرض شامل ہے۔

 

 

موجودہ حکومت میں قرضوں میں اضافہ 

 

 

شہباز شریف کی موجودہ حکومت کے دوسرے دور کا جائزہ لیا جائے تو نگران حکومت کے خاتمے اور فروری 2024 میں شہباز شریف کے دوبارہ وزیراعظم بننے کے وقت وفاقی قرضہ 64.8 ٹریلین روپے تھا، جو جون 2026 تک بڑھ کر 83.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔

 

 

قرضوں میں اضافے کی وجوہات 

 

 

 

اقتصادی ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکسوں کی بھاری شرح اور حکومتی ریونیو میں 107 فیصد تک اضافے کے باوجود وفاقی حکومت کو بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے اور قرضوں پر سود کی ادائیگیوں یعنی Debt Servicing کے لیے مزید قرض لینا پڑا۔

 

ماہرین کے مطابق قرضوں میں یہ مسلسل اضافہ ملکی معیشت پر شدید دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں