امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کا احتجاجاً ٹرمپ کی کوریج معطل کرنے کااعلان
امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تین نمایاں میڈیا اداروں کے صحافیوں کا وائٹ ہاؤس میں داخلہ روکنے کے خلاف مشترکہ ردعمل دیتے ہوئے صدر کی مخصوص پول ویڈیو کوریج عارضی طور پر معطل کردی ہے۔ فاکس نیوز میڈیا، اے بی سی نیوز، سی بی ایس نیوز، این بی سی نیوز اور سی این این اس فیصلے میں شامل ہیں۔
پانچوں نیٹ ورکس نے مشترکہ بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ عوام کے لیے اپنی حکومت کے بارے میں درست اور آزاد معلومات تک رسائی انتہائی اہم ہے اور کسی بھی انتظامیہ کو محض اپنی رپورٹنگ پر اعتراض کی بنیاد پر کسی نیوز ادارے کی رسائی محدود نہیں کرنی چاہیے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب وائٹ ہاؤس ٹی وی پول نے اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ کے ان پروگراموں کی پول کوریج نہیں کی جائے گی جو اس نظام کے تحت کور کیے جاتے ہیں، جبکہ اس مقصد کے لیے کوئی متبادل ٹی وی پول بھی تشکیل نہیں دیا جائے گا۔ دیگر پول سرگرمیاں، جن میں کانگریس اور بعض دوسرے پروگراموں کی کوریج شامل ہے، معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
ٹی وی نیٹ ورکس نے یہ قدم وائٹ ہاؤس کی جانب سے سی این این کو اپنی مقررہ پول ذمہ داری پوری کرنے سے روکنے کے بعد اٹھایا۔ سی این این، فاکس نیوز، اے بی سی، سی بی ایس اور این بی سی باری باری صدر کی سرگرمیوں کی ویڈیو کوریج فراہم کرتے ہیں، جسے بعد میں دوسرے میڈیا اداروں کے ساتھ بھی شیئر کیا جاتا ہے۔
تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب صدر ٹرمپ نے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی کا اعلان کیا۔ تینوں اداروں کے صحافیوں کو بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور ان کے پریس پاسز بھی غیر فعال یا واپس لے لیے گئے۔
ٹرمپ نے پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کسی مخصوص خبر کی نشاندہی نہیں کی بلکہ ان اداروں پر عمومی طور پر غلط خبریں نشر یا شائع کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ مزید میڈیا اداروں کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔ وفاقی عدالت میں دائر مقدمے میں میڈیا اداروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس تک ان کی رسائی روکنا امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، جبکہ عدالت سے صحافیوں کی رسائی بحال کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ ان کی انتظامیہ آزاد صحافت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کا اقدام آزاد پریس کے خلاف نہیں بلکہ ان کے بقول ’’فیک نیوز‘‘ کے خلاف ہے، جسے انہوں نے امریکا میں پھیلنے والے کینسر سے تشبیہ دی۔