سعودی درخواست کے بعد ٹرمپ حوثیوں پر حملے کیلئے تیار تھے، آخری لمحے روک دیا
یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی تقریباً شروع ہونے ہی والی تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری مرحلے میں حملہ روکنے کا فیصلہ کرلیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مدد کی درخواست کی تھی، جس کے بعد ٹرمپ نے پینٹاگون کو کارروائی کی تیاری کا حکم دیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ممکنہ حملے کے لیے مکمل تیاریاں کرلی تھیں۔ فوجی کمانڈرز اہداف کی فہرستیں منظور کرچکے تھے، جبکہ کارروائی کے لیے منتخب کیے گئے امریکی جنگی طیاروں پر بم بھی لوڈ کیے جا رہے تھے۔
تاہم حملہ شروع ہونے سے پہلے ہی صدر ٹرمپ نے اپنا فیصلہ ایک مرتبہ پھر تبدیل کردیا اور یمن میں حوثی اہداف پر امریکی فضائی حملوں کو روک دیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کے قریبی حلقے میں موجود متعدد افراد حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ مل کر فوجی کارروائی میں امریکا کی شمولیت کے مخالف تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث امریکی فوج پہلے ہی ایک بڑے فوجی محاذ پر مصروف ہے، اس لیے یمن میں ایک اور محاذ کھولنے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایک روز پہلے اپنے مشیروں سے گفتگو میں حوثیوں کے خلاف حملوں کی حمایت نہیں کی تھی، لیکن سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطے کے بعد انہوں نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے پینٹاگون کو حملے کی تیاری کا حکم دے دیا تھا۔
بعد ازاں اتوار کو صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر فیصلہ تبدیل کیا اور امریکی حملوں کو فی الحال روک دیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی کمانڈرز اہداف کی منظوری دے چکے تھے اور جنگی طیارے کارروائی کے لیے تیار کیے جا رہے تھے۔
یوں امریکی فوج کی جانب سے اہداف طے کیے جانے، حملے کی تیاری مکمل کرنے اور جنگی طیاروں پر بم لادنے کے باوجود یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی فضائی کارروائی شروع نہ ہوسکی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق سعودی ولی عہد نے امریکا سے حوثیوں کے خلاف مزید فوجی مدد طلب کی تھی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایک نئے فوجی محاذ میں شمولیت کے حوالے سے شدید تحفظات موجود تھے۔