فلائی دبئی حادثے کے بعد دبئی سے اسرائیل کیلئے پہلی پرواز
فلائی دبئی کے واقعے کے بعد دبئی سے اسرائیل کے لیے پہلی پرواز دوبارہ روانہ ہوگئی ہے۔
تاہم یہ معمول کی فلائی دبئی سروس نہیں بلکہ اسرائیلی ایئرلائن آرکیا کی دبئی میں پھنسے اسرائیلی مسافروں کو واپس لانے والی خصوصی پرواز تھی۔
اس سے قبل فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 ستمبر میں دبئی سے تل ابیب جاتے ہوئے ایک سنگین سکیورٹی واقعے کا شکار ہوئی تھی۔ معاون پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا، جس کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر اتارا گیا۔
واقعے کے بعد فلائی دبئی نے دبئی سے تل ابیب جانے والی پروازیں عارضی طور پر معطل کردی تھیں۔
اس کے بعد اسرائیلی حکام نے دبئی میں پھنسے اسرائیلی مسافروں کو واپس لانے کے لیے خصوصی پروازوں کی اجازت دی۔
3 اکتوبر کو آرکیا کی پہلی خصوصی پرواز دبئی سے روانہ ہوئی اور اسرائیلی مسافروں کو واپس لانے کے لیے تل ابیب پہنچی۔
ابتدائی پروازوں میں سکیورٹی انتظامات سخت رکھے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مسافروں کو فی الحال سامان جہاز کے کارگو ہولڈ میں رکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے دبئی سے اسرائیل جانے والی اماراتی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے واقعے کو دہشت گردی قرار دے دیا۔
پراسیکیوٹر جنرل متحدہ عرب امارات نے بتایا کہ اسرائیل جانے والی پرواز کے معاون پائلٹ نے کاک پٹ میں پائلٹ پر کلہاڑی سے حملہ کیا اور حملے کے بعد طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔
اماراتی پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق معاون پائلٹ نے دہشت گردی کا منصوبہ پہلے سے بنا رکھا تھا۔ واقعے کے حالات، محرکات اور اس سے متعلق ممکنہ روابط کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ٹھوس اور ڈیجیٹل شواہد کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
ترجمان ایئرلائن کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، اس لیے وہ اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق فلائی دبئی کے واقعے میں ملوث معاون پائلٹ عمان کے شہری ہمام الحمامی ہیں۔