فرانس میں طلبہ کا پُرتشدد احتجاج، 500 ہائی سکول بند رکھنے کا اعلان
فرانس میں طلبہ کی جانب سے پیر سے احتجاج دوبارہ شروع کرنے کی کال کے بعد حکومت نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر تقریباً 400 سے 500 ہائی سکول مکمل یا جزوی طور پر بند رکھنے کا اعلان کردیا۔
فرانسیسی وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفرے کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں کی بتدریج بحالی کے منصوبے کے تحت یہ فیصلہ احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے، کیونکہ متعدد علاقوں میں طلبہ اور سکولوں کی املاک کی حفاظت سے متعلق صورتحال تسلی بخش نہیں۔
وزیر تعلیم نے بتایا کہ احتجاج شروع ہونے کے بعد سے 24 سکول یا تو نذر آتش کیے جاچکے ہیں یا وہاں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ ہوئی ہے۔
فرانسیسی تعلیمی اداروں میں احتجاج کا آغاز 17 ستمبر کو پیرس کے ایک مضافاتی سکول سے ہوا تھا۔ طلبہ نے اساتذہ کی کمی، تدریسی اوقات میں اضافے اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ بعد ازاں یہ تحریک ملک کے مختلف حصوں تک پھیل گئی اور کلاسوں کا بائیکاٹ، سکولوں کی تالابندی اور مظاہرے معمول بن گئے۔
وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ جمعے کو ملک کے 3,700 ہائی سکولوں میں سے 400 مکمل طور پر بند رہے، جبکہ 560 سے زائد اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
حکومت کے مطابق ستمبر کے وسط سے جاری جھڑپوں اور پُرتشدد واقعات کے دوران کم از کم 170 طلبہ اور 78 تعلیمی عملے کے ارکان زخمی ہوچکے ہیں۔
وزارت داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 5 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں 85 فیصد کم عمر افراد شامل ہیں۔
دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر ناقدین نے پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر بے جا طاقت کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کے مطالبات سننے کے بجائے ان کے خلاف تشدد کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
فرانسیسی وزیر تعلیم نے ان الزامات کے جواب میں دعویٰ کیا کہ سخت گیر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند عناصر طلبہ کی تحریک میں شامل ہوگئے ہیں اور انہوں نے احتجاج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے تشدد کو فروغ دیا۔
دوسری طرف احتجاجی تنظیموں نے صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر ٹھوس اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مظاہروں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے۔