Pakistan

ایمان مزاری ضمانت کیس،جج برہم،ڈی ایس پی کوجیل بھیجنے کی وارننگ،ہتھکڑی منگوا لی

ایمان مزاری ضمانت کیس،جج برہم،ڈی ایس پی کوجیل بھیجنے کی وارننگ،ہتھکڑی منگوا لی
۱۰ گھنٹے پہلے

انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران کیس کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر پولیس حکام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہتھکڑی منگوالی اور ڈی ایس پی کو 6 ماہ کے لیے جیل بھیجنے کی وارننگ دے دی۔

 

درخواست ضمانت کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی۔ تفتیشی افسر کے عدالت میں موجود نہ ہونے پر جج برہم ہوگئے اور ڈی ایس پی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

 

وکیل صفائی ریاست علی نے عدالت کو بتایا کہ وہ مقدمے پر تفصیلی دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس پر جج نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کہاں ہیں؟ عدالتی عملے نے بتایا کہ تفتیشی افسر شہر سے باہر ہیں۔

 

جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے تفتیشی افسر کی غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ایس پی کو طلب کیا اور کہا کہ زبانی کلامی باتیں نہیں مانی جائیں گی۔ جج نے ہتھکڑی منگوانے کے ساتھ سکیورٹی انچارج کو بھی عدالت میں طلب کرلیا۔

 

ڈی ایس پی کے پیش ہونے پر جج نے پوچھا کہ کیس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ ڈی ایس پی نے انگریزی میں جواب دینا شروع کیا تو جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ اردو میں بات کی جائے۔

 

ڈی ایس پی نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق تفتیشی افسر شہر سے باہر ہیں اور مزید وقت دینے کی درخواست کی۔ جج نے کہا کہ انہیں زبانی کلامی باتیں پسند نہیں، ریکارڈ پر ثبوت پیش کیا جائے۔

 

جج نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے ڈی ایس پی کو خبردار کیا کہ اگر ثبوت اور مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو انہیں اور ایس پی کو 6 ماہ کے لیے جیل بھیج دوں گا۔ جج نے پولیس حکام کے رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کو ڈرامہ نہ بنایا جائے۔

 

جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے مزید کہا کہ ڈی ایس پی کو کٹہرے میں الٹا منہ کرکے کھڑا کیا جاسکتا ہے اور یونیفارم سمیت 6 ماہ کے لیے جیل بھیجا جاسکتا ہے، اس لیے ریکارڈ پر ثبوت لایا جائے۔

 

ڈی ایس پی نے بعد ازاں بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان گئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واٹس ایپ پیغام کی پرنٹ شدہ کاپی عدالت میں پیش کی، تاہم جج نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور اصل کاپی یا ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔

 

عدالت نے ڈی ایس پی کو کٹہرے میں کھڑے رہنے کی ہدایت کی جبکہ سکیورٹی انچارج سے کہا کہ فیصلہ ہونے تک انہیں جانے نہ دیا جائے اور گیٹ پر موجود اہلکاروں کو بھی ہدایت کی جائے کہ ڈی ایس پی عدالت سے باہر نہ جائیں۔

 

جج نے کہا کہ عدالتی احکامات پر فوری عملدرآمد کے لیے مؤثر جوڈیشل فورس ہونی چاہیے، تاکہ عدالت کے حکم پر اسی وقت کارروائی ہوسکے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں