Pakistan

حکومتی ہٹ دھرمی سے مذاکراتی مسودے پر حتمی اتفاق نہ ہوسکا، بیرسٹر گوہر

حکومتی ہٹ دھرمی سے مذاکراتی مسودے پر حتمی اتفاق نہ ہوسکا، بیرسٹر گوہر
۵ گھنٹے پہلے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ حکومت کے غیر لچکدار رویے کے باعث مذاکرات کے مسودے پر حتمی اتفاق رائے نہیں ہوسکا، جبکہ حکومتی فریق نے مذاکرات کے دوران کسی بھی تجویز پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

 

سوات میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات سمیت دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی تجویز دی تھی۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیے پر بھی بات چیت ہوئی۔

 

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران بھی مذاکرات کے راستے کھلے رہتے ہیں۔ اگر حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے خلوص کے ساتھ مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کی کوشش کی، تاہم حکومت نے تعاون نہیں کیا۔

 

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ختم نہیں ہوا اور پارٹی پرامن طریقے سے احتجاج کرنے کے اپنے حق پر قائم ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرکے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

 

انہوں نے وفاقی حکومت سے خیبرپختونخوا کے معاملات میں مداخلت روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وفاقی مداخلت کے نتیجے میں صوبے میں کمزور حکومت قائم ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چیف سیکریٹری اور آئی جی کسی اور کی ہدایات پر عمل کریں گے تو صوبے میں امن کیسے قائم ہوگا۔

 

بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے ڈپٹی کمشنرز بھی دوسروں کے کہنے پر دفعہ 144 نافذ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کئی وزرا اور ارکان صوبائی اسمبلی اس وقت موجود نہیں اور خبردار کیا کہ اگر فائرنگ یا تشدد کا کوئی واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

 

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کو 2 کروڑ ووٹ ملے لیکن اس کا مینڈیٹ چھین لیا گیا۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق 76 ارکان قومی اسمبلی، 25 سینیٹرز اور پنجاب و خیبرپختونخوا کے 197 ارکان صوبائی اسمبلی بائیکاٹ کریں گے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں