Business

کراچی میں جعلی کمپنیوں کے ذریعے 3 ارب 26 کروڑ روپے کے انٹرنیٹ راؤٹرز درآمد ہونے کا انکشاف

کراچی میں جعلی کمپنیوں کے ذریعے 3 ارب 26 کروڑ روپے کے انٹرنیٹ راؤٹرز درآمد ہونے کا انکشاف
۶ گھنٹے پہلے

کراچی میں کسٹمز کی تحقیقات کے دوران دو مبینہ جعلی کمپنیوں کے ذریعے 3 ارب 26 کروڑ روپے مالیت کے انٹرنیٹ راؤٹرز درآمد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

 

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر 71 ہزار 815 راؤٹرز درآمد کیے، جن کی مجموعی مالیت 3 ارب 26 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ کسٹمز حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ معاملے میں انڈر انوائسنگ اور ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

 

رپورٹ میں مسلم سنز انٹرپرائز اور موسانی سنڈیکیٹ کو مبینہ فرنٹ یا پیپر کمپنیاں قرار دیا گیا ہے۔ دونوں اداروں کو مبینہ طور پر فرنٹ مین کے نام پر رجسٹر کرکے خفیہ آپریٹرز کے لیے ’’مارکیٹ آئی ڈیز‘‘ کے طور پر استعمال کیا گیا۔

 

تحقیقات کے دوران کمپنیوں کے رجسٹرڈ کاروباری پتے بھی مشکوک پائے گئے۔ ایک پتے پر آٹا اور چاول کی دکان جبکہ دوسرے مقام پر کرائے کا رہائشی مکان موجود تھا۔

 

رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیوں کے وی بوک اکاؤنٹس ہزاروں مختلف آئی پی ایڈریسز سے استعمال کیے گئے۔ مسلم سنز انٹرپرائز کے اکاؤنٹ سے 2 ہزار 983 جبکہ موسانی سنڈیکیٹ کے اکاؤنٹ سے 2 ہزار 732 منفرد آئی پی ایڈریسز منسلک پائے گئے۔ دونوں کمپنیوں کے 1 ہزار 48 آئی پی ایڈریسز مشترک بھی نکلے، جس سے مبینہ مشترکہ کنٹرول کا شبہ مزید بڑھ گیا۔

 

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیوں نے 2.2 ارب روپے سے زائد کی درآمدات کیں جبکہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز شامل کرنے کے بعد مجموعی لاگت 3.2 ارب روپے سے تجاوز کرگئی۔ اس کے مقابلے میں دونوں کمپنیوں کے مالکان کا ابتدائی مشترکہ سرمایہ صرف 22 لاکھ روپے تھا۔

 

رپورٹ میں کمپنیوں کی محدود مالی حیثیت اور اربوں روپے کی درآمدات کے درمیان نمایاں فرق کی بنیاد پر خفیہ بینیفیشل اونرز کی جانب سے فنڈنگ کے شبہے کا اظہار کیا گیا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے 108 مقامی خریدار اور 12 غیر ملکی سپلائرز بھی مشترک پائے گئے۔

 

کسٹمز رپورٹ کے مطابق تقریباً 2.9 ارب روپے کی مقامی فروخت کے باوجود کیش میں تقریباً کوئی سیلز ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔ تحقیقات میں راؤٹرز کی قیمت کم ظاہر کرنے کا بھی انکشاف ہوا۔ درآمدی دستاویزات میں مال کی قیمت تقریباً 9 کروڑ 70 لاکھ روپے ظاہر کی گئی، تاہم کسٹمز اسیسمنٹ کے بعد یہ مالیت بڑھ کر 56 کروڑ 50 لاکھ روپے ہوگئی۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاملہ صرف پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر راؤٹرز درآمد کرنے تک محدود نہیں بلکہ مبینہ مالی فراڈ اور ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ درآمدی رقوم فرنٹ کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کیے جانے کا شبہ ہے، جس پر بینکوں سے رقوم کے ذرائع اور ادائیگیوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

 

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بینیفیشل اونرشپ کی چھان بین کے بغیر مال کی کلیئرنس سے انکار پر کسٹمز افسران پر مبینہ دباؤ اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

 

کسٹمز کی رپورٹ میں معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے کسٹمز، ان لینڈ ریونیو اور ایف آئی اے پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ دونوں کمپنیوں کے وی بوک یوزر آئی ڈیز معطل یا منسوخ کرنے اور ٹیکس سے متعلق معاملات آر ٹی او ٹو کراچی کو بھجوانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں