World

ریاض کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ، یمن میں لڑائی مزید شدید

ریاض کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ، یمن میں لڑائی مزید شدید
۱۲ گھنٹے پہلے

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی گروپ کی جانب سے ریاض کے شمالی علاقے کو نشانہ بنا کر داغا گیا بیلسٹک میزائل سعودی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کردیا۔

 

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی قیادت میں یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بدھ کو بتایا کہ میزائل حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت کے شمالی علاقے کی طرف داغا گیا تھا۔ ان کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے میزائل کی بروقت نشاندہی کرکے اسے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا۔

 

ترکی المالکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں حوثیوں کو دہشت گرد ملیشیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاض کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے روک کر مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔

 

یہ واقعہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے کے دوران پیش آیا ہے۔ حوثی گروپ ماضی میں بھی سعودی علاقوں، فوجی تنصیبات اور اہم مقامات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کے دعوے کرتا رہا ہے۔

 

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کا کہنا ہے کہ سعودی فضائی حدود اور شہری آبادیوں کے تحفظ کے لیے میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاعی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

 

دوسری جانب یمن میں حوثی گروپ نے سعودی عرب اور جنوبی یمن کے مختلف علاقوں پر متعدد میزائل حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مختلف محاذوں پر زمینی جھڑپوں میں بھی شدت آگئی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق ریاض کے شمال کی جانب داغا گیا میزائل فضائی دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کردیا۔

 

عدن سکیورٹی اتھارٹی کے میڈیا آفس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے دو میزائل عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے لیے بھی داغے گئے، تاہم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے مختلف محاذوں پر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں، خصوصاً مغربی ساحلی پٹی اور آبنائے باب المندب کے اطراف دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

 

سعودی سول ایوی ایشن حکام کے مطابق یمنی سرحد کے قریب جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے۔ سعودی حکام نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنائے جانے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار24 کے مطابق اس دوران ایئرپورٹ کی فضائی حدود میں متعدد مرتبہ عارضی بندش دیکھی گئی۔

 

باب المندب کے قریب لڑائی کی ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد تنازع مزید سنگین ہوگیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویڈیو کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ویڈیو میں بکتر بند گاڑیوں کو ایسے افراد کی جانب بڑھتے دیکھا جاسکتا ہے جن میں بعض مسلح اور کچھ بظاہر غیر مسلح ہیں۔ بعض افراد ہاتھ بلند کیے، بیٹھے یا زمین پر لیٹے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

 

حوثیوں نے اس واقعے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے حکومتی فورسز پر الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویڈیو ان کے مخالفین کی اصل نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔

 

تاہم باب المندب کے محاذ پر موجود جائنٹس بریگیڈز کے ترجمان نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان کے مطابق فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ حوثی جنگجو ہتھیار ڈال رہے ہیں، لیکن بعد میں بعض افراد نے حکومتی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی۔

 

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے ویڈیو اور الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ تاہم ہوم لینڈ شیلڈ فورسز نے اپنے اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ قیدیوں کے ساتھ انسانی، اخلاقی اور قانونی اصولوں کے مطابق سلوک کیا جائے۔

 

دنیا کی اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے باب المندب کے اطراف لڑائی بدستور جاری ہے۔ حکومتی فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گزشتہ ماہ حوثیوں کے زیر قبضہ متعدد علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کیا۔

 

پیر کی شب حکومتی فورسز نے کئی محاذوں پر پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ تعز کے مختلف علاقوں سے حوثیوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے، جبکہ صوبہ مارب کے جنوبی علاقوں میں بھی فوجی پیش رفت ہوئی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں