حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کو 3 سال مکمل،اسرائیل کو نئے حملوں کا خدشہ
حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے گئے اچانک حملے کو تین سال مکمل ہوگئے ہیں، تاہم اسرائیلی حکام نے ایک بار پھر ایران، حماس اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی قومی سلامتی کونسل نے وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کے ذریعے جاری سفری انتباہ میں کہا ہے کہ ایران، حماس اور عالمی جہادی عناصر 7 اکتوبر کی تاریخ کو اہم سنگِ میل سمجھتے ہیں۔
سفری انتباہ میں اسرائیلی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ 7 اکتوبر کے موقع پر اسرائیل اور دنیا کے مختلف حصوں میں یہودی آبادیوں پر حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ شہریوں کو اردن، قطر، صومالی لینڈ اور مصر، خصوصاً صحرائے سینا، کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دیگر ممالک میں موجود اسرائیلی شہریوں کو بھی ہجوم والی جگہوں پر عبرانی زبان بولنے، مظاہروں کے قریب جانے اور سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر یا معلومات شیئر کرنے سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے جن سے ان کی اسرائیلی فوج یا سکیورٹی اداروں سے وابستگی ظاہر ہوسکتی ہو۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ، پولیس کمشنر اور داخلی سلامتی کے ادارے کے سربراہ نے بھی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور آئندہ ہفتوں کے دوران ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے اور ملک میں سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر اتفاق کیا۔
7 اکتوبر 2023 کو کیا ہوا تھا؟
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے جنگجوؤں نے پیراشوٹ اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے جنوبی اسرائیل کی مختلف آبادیوں، فوجی اڈوں اور ایک موسیقی میلے پر حملہ کیا تھا۔
اسرائیلی اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی ہلاک ہوئے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا۔ اس حملے کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان طویل جنگ شروع ہوگئی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ حماس انتخابات سے قبل اسرائیل میں حملہ کرکے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرسکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایسے کسی بھی ممکنہ اقدام کے لیے تیار ہے۔
7 اکتوبر کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں شروع کیں، جن میں رہائشی علاقوں، ہسپتالوں اور سکولوں پر بھی حملے شامل رہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً ایک لاکھ فلسطینی شہید اور دو لاکھ سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔