Breaking News

خاتون کی رضامندی کے بغیر تنسیخِ نکاح کی درخواست خلع مقدمے میں تبدیل کرنا غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ

خاتون کی رضامندی کے بغیر تنسیخِ نکاح کی درخواست خلع مقدمے میں تبدیل کرنا غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ
۴ گھنٹے پہلے

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ خاتون کی رضامندی کے بغیر تنسیخِ نکاح کی درخواست کو خلع کے مقدمے میں تبدیل کرنا غیر قانونی ہے۔

 

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف 2 خواتین کی اپیلوں پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔

 

عدالت نے دونوں خواتین کے نکاح خلع کے بجائے شقاق کی بنیاد پر ختم کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا جبکہ خلع کی بنیاد پر حق مہر واپس کرنے یا اس سے دست بردار ہونے سے متعلق ہدایات کالعدم قرار دے دیں۔ تاہم دونوں مقدمات میں نان نفقہ اور جہیز کے سامان سے متعلق فیصلے برقرار رکھے گئے۔

 

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگر شوہر کی جانب سے ظلم یا زیادتی ثابت نہ ہو تو عدالت خود سے خاتون کے لیے خلع کا راستہ اختیار نہیں کرسکتی۔ عدالت کے مطابق خلع اور قانون کے تحت تنسیخِ نکاح 2 الگ قانونی راستے ہیں اور دونوں کے مالی نتائج بھی مختلف ہوتے ہیں۔

 

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ غیر رضاکارانہ خلع کے ذریعے کسی خاتون کو حق مہر سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے مطابق ازدواجی زندگی میں سنگین اور مسلسل اختلافات، خاص طور پر جب مصالحت کی کوششیں ناکام ہوجائیں، شقاق کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شقاق مسلم قانون میں نکاح ختم کرنے کی تسلیم شدہ بنیاد ہے اور متعلقہ قانونی شق کے تحت نکاح ختم کیا جاسکتا ہے۔

 

عدالت نے واضح کیا کہ معمولی گھریلو جھگڑے، مزاج کا اختلاف یا عارضی علیحدگی شقاق ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ عدالت کو اس بات پر مطمئن ہونا ضروری ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اختلاف حقیقی، سنگین اور مسلسل نوعیت کا ہے۔

 

فیصلے کے مطابق نکاح ختم کرنے سے قبل عدالت کی جانب سے با معنی مصالحت کی کوشش ضروری ہے اور اس کوشش کے باوجود اگر صلح نہ ہوسکے تو شقاق کی بنیاد پر تنسیخِ نکاح کی جاسکتی ہے۔

 

عدالت نے قرار دیا کہ شقاق کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کے لیے خاتون کا حق مہر سے دست بردار ہونا ضروری نہیں۔ اسی بنیاد پر خلع کے تحت حق مہر واپس کرنے یا چھوڑنے سے متعلق ہدایات کالعدم کردی گئیں، جبکہ نان نفقہ اور جہیز کے سامان سے متعلق دونوں مقدمات کے فیصلے برقرار رکھے گئے۔

 

تحریری حکم نامے میں سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ ظلم ثابت کیے بغیر شوہر کو ظالم قرار دینا درست نہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ خاندانی مقدمات کی سماعت کے دوران دونوں فریقوں کے قانونی حقوق، عزت اور وقار کا یکساں تحفظ کیا جانا چاہیے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں