Pakistan

سپریم کورٹ، 5 سالہ بیٹے کو مبینہ طور پر زندہ جلانے کے مقدمے میں نامزد ماں بری

سپریم کورٹ، 5 سالہ بیٹے کو مبینہ طور پر زندہ جلانے کے مقدمے میں نامزد ماں بری
۷ گھنٹے پہلے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ بیٹے کو مبینہ طور پر زندہ جلانے کے مقدمے میں نامزد ملزمہ انیقہ کو شواہد ناکافی ہونے اور پولیس کی ناقص تفتیش کے باعث تمام الزامات سے بری کردیا۔

 

جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے اسلام آباد کے تھانہ سہالہ میں درج بچے کے قتل کے مقدمے کی سماعت کی، جس میں انیقہ پر اپنے ہی بیٹے کو جلا کر قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

 

سماعت کے دوران ملزمہ کے وکیل پرنس ریحان نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موکلہ کے خلاف کوئی ٹھوس یا براہ راست ثبوت موجود نہیں۔ ان کے مطابق جائے وقوعہ سے نہ پیٹرول ملا اور نہ ہی ایسا کوئی مواد برآمد ہوا جو مبینہ واقعے سے متعلق ہو، جبکہ واقعے کا کوئی عینی شاہد بھی موجود نہیں تھا۔

 

سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کا ایک اعترافی ویڈیو بیان موجود ہے جو اس نے نجی ٹی وی پروگرام کے دوران دیا تھا۔

 

اس پر جسٹس شکیل احمد نے قرار دیا کہ ٹی وی پروگرام میں دیا گیا بیان بذاتِ خود قابلِ قبول قانونی شہادت نہیں بنتا، اسے دیگر ٹھوس اور قانونی شواہد سے ثابت کرنا ضروری ہے۔

 

بینچ نے مقدمے کی تفتیش پر بھی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر نے اپنی ذمہ داری درست طور پر ادا نہیں کی۔ جسٹس ملک شہزاد نے گواہوں کے بیانات اور میڈیکل رپورٹ میں موجود تضادات کی بھی نشاندہی کی۔

 

سپریم کورٹ نے تمام دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ملزمہ کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ قانونی شواہد موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر انیقہ کو تمام الزامات سے بری کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں