Pakistan

افغان حکام دہشتگردی کے معاملے پر وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے، اسحاق ڈار

افغان حکام دہشتگردی کے معاملے پر وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے، اسحاق ڈار
۱۰ گھنٹے پہلے

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ انسداد دہشتگردی کی ذمہ داریاں پوری کریں اور افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ انہوں نے دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس، قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

 

انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں پاکستان کی بدلتی ہوئی انسداد دہشتگردی صورتحال پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور القاعدہ سے اس کے قریبی روابط سے متعلق رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے باعث تشویش ہے۔

 

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے، سفارتی روابط کو سفیر کی سطح پر اپ گریڈ کرنے اور علاقائی تجارت و ریلوے رابطوں کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں، تاہم دہشتگردی کے خلاف کارروائی سے متعلق پاکستان کے بنیادی مطالبے پر تاحال مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔

 

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی نے پاکستان کی معیشت اور عالمی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کو قومی ترجیح بنایا ہے۔ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد، انٹیلیجنس اداروں کے درمیان رابطوں اور وفاق و صوبوں کے تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے عزم اور قربانیوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

 

خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آئے روز احتجاجوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، اسی لیے صوبے میں اقدام اٹھانا پڑا، جس سے ان کے بقول وہاں کے لوگ بھی خوش ہیں۔

 

اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں 7 اگست کو طے پانے والا پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی جارحانہ مقصد کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے اصولوں کے مطابق خطے میں امن و سلامتی کو فروغ دینا ہے۔ مستقبل میں دوسرے ممالک کے لیے بھی اس معاہدے میں شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں